خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 216 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 216

خطبات طاہر جلد۵ 216 خطبہ جمعہ ۱۴ / مارچ ۱۹۸۶ء سنایا گیا تھا ) خدا تعالیٰ ان کو محض اپنے خاص فضل سے مزید تکلیف میں نہ ڈالے۔میری اہلیہ اور آٹھ بچوں جس میں دو جڑواں بہنیں عمر بارہ سال کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں حوصلہ دے، ہمت دے اور وہ بھی خدا کی رضا پر راضی رہیں۔یہ احمدیت کی پنیری ہے جس نے بڑھ کر بار آور درخت بننا ہے۔ان کی دیکھ بھال اللہ کے فرشتے فرمائیں۔ان کے بیٹے کا خط بھی ہے، وہ لکھتے ہیں: آج مورخه ۵ / مارچ ۱۹۸۶ء ( یعنی ایک دن کے بعد کا لکھا ہوا خط ہے ) کو جب بچے والد صاحب سے ملاقات کرنے جیل گئے تو ہم لوگوں کو وہاں لے جایا گیا جہاں پھانسی کے لوگوں کو رکھا جاتا ہے۔وہاں والد صاحب اور چچا کو جس حالت میں دیکھا یعنی ان کے لباس کو تو یقین جانیں کہ دل خون کے آنسو رویا کہ ایسے دن بھی آسکتے ہیں۔تمام لوگ رو ر ہے تھے لیکن آفرین ہے جماعت کے ان سپوتوں پر کہ کیا مجال کہ ان کی آنکھ سے ایک آنسو بھی نکلا ہو پھر لکھتے ہیں کہ: میں نے جب یہ منظر دیکھا تو کیا بتاؤں بیان نہیں کر سکتا کہ خدا اپنے بندوں کے کیسے کیسے امتحان لیتا ہے۔لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان لوگوں کو تکلیف دے کر وہ ہمارا ایمان خرید لیں گے۔خدا کی قسم یہ لوگ اگر ہم سب کو پھانسی دے دیں تو بھی ہم لوگ اف نہیں کریں گے۔پہلے ان ظالموں نے میرے دادا کو شہید کیا اور اب ان کو بھی جھوٹے مقدمے میں ملوث کر دیا۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جلد ان لوگوں کو باعزت بری فرمائے اور وہ لوگ ہنسی خوشی واپس گھر آئیں اس سے دعاؤں پر اور خدا کی قدرت پر جماعت کو جو کامل یقین ہے اس کا بھی پتہ چلتا ہے۔بچے کو علم ہے کہ سو فیصدی ظالم اور سفاک لوگ ہیں اور کوئی خدا کا خوف نہیں ہے۔اور بظاہر کوئی آثار نہیں ہیں کہ ان کے دل میں کوئی تبدیلی پیدا ہو اس کے باوجود آخری لمحے تک مومن کو جو خدا