خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 210 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 210

خطبات طاہر جلد۵ 210 خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۶ء کئے ہیں ، اس لئے ساری دنیا کے احمدی اگرچہ وہ پاکستانی نہیں ہیں اگر چہ حب الوطن کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے لئے دعا کریں لیکن حب الایمان کا یہ ضرور تقاضا ہے کہ پاکستان کو اپنی دعاؤں میں یا درکھیں کہ پاکستان ہی سے ان کے ملک تک نور پہنچانے والے نکلے تھے۔پاکستان ہی سے وہ جیالے اٹھے تھے جنہوں نے دنیا کے کونے کونے میں محمد مصطفی ﷺ کی رسالت کا پیغام پہنچایا اور خدا کی توحید کے گیت گائے۔پس دعا کریں کیونکہ مجھے اس ملک کے حالات اچھے نہیں دکھائی دے رہے۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے اور ہمیں اس ملک کی اچھی تقدیر دکھائے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جب میں یہ کہتا ہوں تو ایک ادنی بھی اس میں کسی قسم کے تصنع کا کوئی پہلو نہیں ہے۔مجھے اس ملک سے دوہری محبت ہے اس لئے بھی کہ یہ ہمارا وطن ہے اور اس لئے بھی کہ اس وطن میں شرافت آج بھی زندہ ہے۔کثرت کے ساتھ غیر احمدی اس معاملے میں آج کے زمانے میں احمدیت کی تائید کر رہے ہیں، کثرت کے ساتھ ایسے دیہات ہیں جہاں اذانیں دی جارہی ہیں اور وہ غیر احمدی وہاں کے شرفاء اپنے مولویوں کو للکارتے ہیں کہ تم نے اگر کچھ کیا تو ہم تمہیں پکڑیں گے۔خدا کا نام ہم یہاں سے بند نہیں ہونے دیں گے۔یہ نہیں ہے کہ حکومت نہیں چاہتی پکڑنا، حکومت چاہتی بھی ہے تو عوام الناس میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دین سے محبت کی وہ رمقیں باقی ہیں ابھی تک جن کے نتیجے میں وہ حکومت کے بدار ا دوں کو چلنے نہیں دیتے۔ہر جگہ خیالات میں تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں ، ہمدردیاں پیدا ہورہی ہیں۔تبلیغ جاری ہے، بیعتیں ہو رہی ہیں اور آئے دن غیر احمدیوں کے ایسے خط آتے ہیں کہ حیران ہو جاتا ہے انسان پڑھ کر کہ اتنی شدید مخالفتوں کے دور میں اُن کو خدا تعالیٰ نے توفیق بخشی اور بڑی جرات عطا فرمائی اور بڑے حوصلے کے ساتھ وہ کہتے ہیں ہم نے فیصلہ کر لیا ہے بیوی چلی گئی ، بچے ہاتھ سے نکل گئے، جائیدادیں گئیں، ہمیں کوڑی کی بھی پرواہ نہیں۔تو جس ملک میں اس حد تک سعادت موجود ہو اس حد تک شرافت موجود ہوا اس کی تباہی کون شریف النفس دیکھ سکتا ہے۔کیسے ممکن ہے کہ وہ ملک تباہ ہورہا ہو اور کوئی اپنے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا ہوتے دیکھ کر مزے اُڑا رہا ہو۔ہرگز ایسے انتقام کی آگ کو آپ نے اپنے دل میں نہیں بھڑ کنے دینا۔یہ جہنم کی آگ ہے جو هَلْ مِنْ مَّزِيد کے مطالبے کیا کرتی ہے۔آپ رحمۃ للعالمین کے غلام