خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 206 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 206

خطبات طاہر جلد ۵ 206 خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۶ء ہیں اور اتنا وسیع اور عام دور ہے یہ کہ جیسا کہ میں نے بار بار پہلے بھی توجہ دلائی ہے۔واقعہ بغیر مبالغہ کے تاریخ میں اتنے وسیع پیمانے پر اس طرح روحانی تخلیق نو بہت کم ہوتی ہوئی دکھائی دے گی۔اس لئے اس سعادت کا خیال کر کے خدا تعالیٰ کے شکر سے غافل نہ رہیں ، خدا تعالیٰ کی حمد سے غافل نہ رہیں اور اسی کے حضور یہ دعا کریں اور اسی سے التجا کریں کہ اگر اس کی آزمائش کے دن اور لمبے ہیں تو آپ کے صبر کے دن بھی اس سے زیادہ بڑھا دے۔اگر آزمائش میں زیادہ سختی آنے والی ہے تو آپ کے حو صلے کو اس سے بھی زیادہ سخت کر دے۔اگر ظلموں میں کچھ ابھی حصہ باقی ہے، ابھی ظلم اپنی انتہاء کو نہیں پہنچے تو اللہ تعالیٰ آپ کی استقامت کو اپنی انتہاء تک پہنچا دے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ ہو چکا ہے ہرگز بعید نہیں کہ اس سے زیادہ دشمن کے کچھ اور کرنے کے بھی ارادے ہوں۔ہر گز بعید نہیں کہ ابھی اور بھی سینے کے کینے ، سینے کے بغض جو بھی مخفی دلوں میں کھول رہے ہیں وہ باہر آنے کے لئے زور مار رہے ہوں اور شاید ان کو تو فیق بھی مل جائے کیونکہ جب حکومت کے سر براہ خود فتنہ و فساد کو پرورش دینے کا تہیہ کر چکے ہوں تو جہاں تک سینوں کے بغضوں کا تعلق ہے وہ تو ہمیں معلوم ہے کہ وہ کس طرح کھول رہے ہیں ، ان کو اگر اجازت دی جائے ان کا دل بڑھایا جائے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور کہا جائے کہ ہاں تم مانگو ہم تمہیں دیتے ہیں تو پھر یہ خیال کر لینا کہ بس جو کچھ ہو چکا بس یہی ہے شاید اس کے بعد کچھ نہ ہو یہ غلط خیال ہے۔در اصل مومن ایک لحاظ سے سادہ بھی ہوتا ہے۔وہ اپنے دل پر نگاہ کرتا ہے اور سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ دل جو ایمان کی حقیقت سے نا آشنا ہو اُس کی سوچ اس کے فکر کے تقاضے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔اُس کی عادات و اطوار بالکل مختلف ہوتے ہیں۔مومن تو جب اُس کا دشمن بھی مارا جارہا ہو اُس کے لئے بھی دکھ محسوس کرتا ہے۔اور کبھی یہ مومن کے متعلق سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ جب وہ جائز بدلہ بھی لے رہا ہو تب بھی اُس بدلہ لیتے وقت اُس کے دل کو اطمینان نصیب نہ ہو بلکہ وہ اور کا مطالبہ کر رہا ہو کہ بس اور بھی مارا جائے اگر اس کو قتل کیا ہے تو اس کے بچوں کو بھی قتل کروں، بچوں کو قتل کیا ہے تو گھر بھی برباد کر دوں ، رشتہ داروں کو بھی فنا کر دوں۔یہ جو خیالات ہیں یہ مومن کے دل میں پیدا ہو ہی نہیں سکتے۔اس لئے مومن سوچ بھی نہیں سکتا کہ دشمن ظلم کے بعد مزید ظلم کی خواہش رکھتا ہوگا، ایک زیادتی کے بعد اور زیادتیاں کرنے کی سوچ رہا ہوگا، ایک دکھ پہنچا کر اور دکھ کے طریقے