خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 205

خطبات طاہر جلد۵ یہ کہہ رہی ہے۔205 خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۶ء پس جس پہلو سے بھی دیکھیں ان دکھوں میں بھی ایسے حسین لمحات ہمارے لئے خدا تعالیٰ نے مقید کر دیئے ہیں کہ ہر دکھ کے پردے میں ایک حسن لپٹا پڑا ہے، ہر مصیبت کے پردے میں خدا تعالیٰ کی رضا کے پیغام ہیں جو چھپے ہوئے ہیں اور اگر دیکھنے کی آنکھ ہو تو اس کو معلوم ہوگا کہ اتنا عظیم الشان سعادت کا دور بہت ہی شاذ کے طور پر قوموں کو نصیب ہوا کرتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور خدا تعالیٰ کی حمد کے گیت گائیں۔اس دکھ کی بھی حفاظت کریں جو خدا کی راہ کا دکھ ہے لیکن اس دکھ کے ساتھ اس حمد اور شکر کی بھی حفاظت کریں جو اس سعادت کے نتیجے میں آپ کے دل میں پیدا ہونے چاہئیں۔اور اگر محض دکھ ہے اور یہ دکھ شکووں میں بدل جاتا ہے تو پھر جو کچھ آپ نے حاصل کیا تھا وہ سب ہاتھ سے ضائع چلا جائے گا۔مومن کے دکھ اور کافر کے دکھ میں یہی فرق ہوا کرتا ہے۔کافر کا دکھ اُسے ہلاک کر دیتا ہے۔اور مومن کا دکھ اس کے مقامات اور مراتب کو پہلے سے بھی زیادہ بڑھا دیتا ہے اور مومن کا دکھ اُسے نئی زندگیاں عطا کرتا ہے۔اس لئے میں یہ نہیں کہتا کہ اس دکھ کو محسوس نہ کریں۔وہ تو ظالم اور سفاک انسان ہو گا جو اپنے بھائی کی تکلیف کے اوپر تکلیف محسوس نہ کرے لیکن اس دکھ کو یہ اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کے نفس کو ہلاک کرے اور آپ اپنے خدا سے ناراض ہو جا ئیں ، آپ اپنے خدا سے شکوے شروع کر دیں، اپنے خدا کے حضور بے صبری دکھانے لگیں۔اس سعادت پر نظر رکھیں جو آپ کو عطا ہوئی ہے جس کے آپ لائق نہیں تھے، میں لائق نہیں تھا۔محض یہ خدا کا فضل ہے ورنہ میں جانتا ہوں کہ ہم بہت ہی کمزور لوگ ہیں۔اتنے خوفناک مصائب کا سامنا ہے جماعت احمدیہ پاکستان کو کہ اگر اپنے نفس کی طاقت کے ذریعہ ان کا مقابلہ کرنا ہوتا تو کبھی کی یہ جماعت ٹوٹ کر پارہ پارہ ہو چکی ہوتی۔لیکن چھوٹے، بڑے، بوڑھے، مرد اور عورتیں جتنے بھی وجود ہیں پاکستان میں احمدیت کے ، جتنے بھی نفوس ہیں، جس رنگ کی بھی وہ شکلیں اور صورتیں ہیں، ہر ایک میں خدا کا فضل سرایت کر چکا ہے اور نئے نئے وجود انہیں وجودوں میں سے پیدا ہورہے ہیں۔ایک نئی تخلیق ہے خدا تعالیٰ کی جو جاری ہے اس وقت تمام احمدیوں کے ابدان پر۔انہی بدنوں سے نئے بدن نکل رہے ہیں، انہی روحوں سے نئی روحیں نکل رہی