خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 204
خطبات طاہر جلد ۵ 204 خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۶ء صلى الله عروسه صلى الله مصطفی ﷺ کی قوم آپ کو یہ جواب نہیں دے سکے سکتی تھی۔ محمد مصطفی ﷺ کے غلام وہم و گمان بھی نہیں صلى الله کر سکتے تھے کہ آنحضور ﷺ ان کو صبر کی تلقین کر رہے ہوں اور آگے سے وہ یہ جواب دیں کہ آپ سے پہلے بھی ہم برے حال میں تھے آپ کے آنے کے بعد بھی ہم برے حال میں رہ میں رہے ۔ وہ تو واقعہ آپ الله بار بار سن چکے ہیں کہ بدر کے مقام پر کس طرح کس شان کے جواب تھے جو آنحضرت ﷺ کے عروسه غلاموں نے آپ کو دیئے ۔ بہر حال حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اور دکھوں کے ساتھ ایک یہ بھی دکھ تھا کہ ان کی قوم بار بار ہمت ہارتی تھی ، بار بارا سے سنبھالنا پڑتا تھا، بار بارا سے اٹھانا پڑتا تھا اور پھر بتانا پڑتا تھا قَالَ عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ دیکھو دیکھو ممکن ہے تمہارا رب عین ممکن ہے ا ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ اور تمہیں وارث بنادے زمین میں پھر دیکھے وہ تمہیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ صلى الله لیکن خدا کی شان ہے، حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو خدا نے تربیت کی ایسی عظیم الشان قوتیں عطا فرمائی تھیں اور تزکیہ نفس کی ایسی عظیم الشان قوتیں عطا فرما ئیں تھیں کہ آنحضور ﷺ کے زمانے کی بات تو بالکل ایک الگ بات تھی چودہ سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے آج بھی وہ قوت قدسیہ اسی طرح کارفرما ہے۔ آج بھی وہ قوت قدسیہ اسی طرح زندہ ہے اور چودہ صدیاں بھی اس قوت کو کمزور نہیں کر سکی۔ وہ دل جو اُس قوت سے متاثر ہونے کے لئے تیار بیٹھے ہیں ، وہ دل جو اس قوت کو اپنے سینوں میں سمانے کے لئے اپنے دلوں کے دروازے کھولتے ہیں ، اُن دلوں میں وہ قوت آج بھی اسی طرح قوت کے ساتھ کارفرما ہے جس طرح چودہ سو سال پہلے آنحضور ﷺ کی یہ تزکیہ نفس کی قوت کام دکھا رہی تھی۔ صلى الله چنانچہ آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلام کے غلام در غلام کو ہر طرف سے یہی پیغام مل رہا ہے کہ تم ہماری فکر نہ کرو ۔ ہم تو یہ غم کھا رہے ہیں کہ ہم کیوں نہیں تھے جنہیں یہ توفیق ملی قربانی کی ۔ ہم تو اس حسرت میں آنسو بہا رہے ہیں کہ کاش ہمیں یہ سعادت ملتی ۔ ہم آگے بڑھ کر ان زنجیروں کو چومتے جن میں ہمارے بھائی جکڑے ہوئے ہیں۔ اس لئے آپ ہمارے لئے یہ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہمیں توفیق بخشے پہلے سے بڑھ کر قربانیاں پیش کرنے کی اور سعادتیں عطا فرمائے ۔ یہ حضرت محمد مصطفیٰ اللہ کے ایک نہایت ہی ادنی اور حقیر غلام کو آپ کی قوم مخاطب ہو کر عروسة ۔