خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 15

خطبات طاہر جلد۵ 15 خطبہ جمعہ ۳ / جنوری ۱۹۸۶ء طرح داخل کر دی جاتی ہے کہ تمہارا یہ وقت معین ہے اس سے آگے تم نہیں بڑھ سکتے۔ان معنوں میں خدا تعالیٰ قرآن کریم میں مختلف جگہ اپنی قدرت کے اس پہلو پر روشنی ڈالتا ہے۔پس یہ آج کل جو دنیا میں صناع قو میں ہیں انہوں نے بھی غیر اختیاری طور پر غیر شعوری طور پر ، لمبے تجربے کی بناء پر خدا کی بعض صفات سے استفادہ کرنا شروع کر دیا۔کیونکہ صفات باری تعالیٰ دنیا میں ہر جگہ جلوہ گر ہیں اس لئے ضروری نہیں ہے کہ کلام کے ذریعہ وہ صفات کسی کو بیان کی جائیں تو وہ انہیں سمجھنے لگے گا بلکہ جس رستے پر بھی آپ قدم اٹھائیں گے وہاں خدا کی صفات آپ کو نظر آنی شروع ہو جائیں گی اور اگر گہری نظر سے آپ سفر کریں گے تو آپ کو دائیں بائیں اوپر نیچے ہر جگہ خدا کی کچھ صفات کی معرفت بھی حاصل ہونی شروع ہو جائے گی۔اب جو ایسی قومیں جنہوں نے صناعی میں ترقی کی ہے اور بعض علوم میں ترقی کی ہے وہ یہ بات پہچان گئے ہیں کہ جب بھی کوئی چیز بنائی جاتی ہے اس کی عمر معین کرنا صرف ضروری نہیں بلکہ بتانا بھی چاہئے کہ کتنی عمر اس کی مقدر ہے۔چنانچہ یہ لوگ جب پل بھی بناتے ہیں تو اس کی بھی عمر لکھ دیتے ہیں۔کوئی کیمرہ بناتے ہیں تو اس کی گارنٹی پر بھی عمر ہوتی ہے، اس کے علاوہ بھی تخمینہ ہوتا ہے کہ کب تک یہ جاری رہ سکتا ہے یا چل سکے گا۔اور جولوگ ان باتوں سے ناواقف ہیں بدقسمتی سے وہی لوگ ہیں جن کے سامنے بیان کی گئی تھیں یعنی قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے کھول کر یہ مضمون مسلمانوں کے سامنے رکھ دیا کہ خدا تعالیٰ قدیر ہے۔وہ جو چیز بھی پیدا کرتا ہے اس کے لئے ایک وقت معین کرتا ہے اس لئے تم بھی اپنی صناعی میں خدا کی قدرت کے یہ رنگ اختیار کرو اور ہر چیز جو بناؤ اس کو علم کے زور سے بناؤ حکمت کے ساتھ بناؤ اور فیصلہ کرو کہ کس وقت تک اس چیز نے کام میں آنا ہے اور کس وقت تک یہ کام دے سکتی ہے۔اس پہلو سے بھی جماعت احمدیہ کو اپنے ہر پہلو میں قدیر بنا چاہئے ، اپنی ہر زندگی کے پروگرام کو معین کرنا چاہئے اور وقت مقرر کرنا چاہئے اس کا۔قَدْرَهُ عَلَى الشَّيْ ءٍ جَعَلَهُ قَادِراً قَدَّرَ کا معنی ایک یہ بھی ہے جب باب تفعیل میں اسکو ڈھالا جائے قَدْرَ يُقَدِرُ تقدیر اتو اس کا معنی ہے کہ کسی کام کرنے پر قا در بنادیا۔قَدْ رَفَلَانٌ رَوَّى وَفَكَّرَفِي تَصْفِيَّةِ اَمْرِهِ کہ اپنے معاملہ کو سدھارنے کے لئے گہرے سوچ بچار سے کام لیا۔یہ دونوں مضمون ایسے ہیں جن پر قرآن کریم مختلف جگہوں پر روشنی ڈال رہا ہے۔فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ