خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 200 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 200

خطبات طاہر جلد۵ اور میرا ریکارڈ اے ون ہے۔200 خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۶ء اسی مضمون کا یہ خط آگے چلتا ہے اور اسی مضمون کے بہت سے خط اور بھی موصول ہوئے ہیں جو مختلف قیدیوں نے اپنے دل کے حالات بیان کئے ہیں، اپنے بیوی بچوں کے حالات بیان کئے اور راہ مولیٰ کے اسیر جن کے خطوط مجھے ملتے رہے ہیں وہ سینکڑوں کی تعداد میں ہیں، ایک دو نہیں۔یہ وہ ہیں جن کے والد شہید ہوئے ، جن کے بھائی اور ان کو اب اس دنیا کی حکومت نے موت کی سزادی ہے اس لئے نمونیہ خصوصیت سے ان کے لئے دعا کی تحریک کے طور پر اس خط کا یہ اقتباس میں نے سنایا ہے۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے دور د عمل ہیں ایک تو انتہائی کرب اور غم کا اتنا شدید کرب کا اظہار کیا ہے ساری دنیا کی جماعتوں نے کہ وہ افریقہ میں بسنے والے یا نبی کے جزائر میں پیدا ہونے والے لوگ جنہوں نے کبھی کسی پاکستانی سے ملاقات بھی نہیں کی کجا یہ کہ پاکستان کے احمدیوں کو جانتے ہوں اور ان کو خصوصیت سے جانتے ہوں۔پھر ٹرینڈ اڈ میں بسنے والے لوگ، امریکہ کے باشندے غرضیکہ دنیا کے کونے کونے پر بسنے والے احمدی جو پاکستان کے احمدیوں اور خصوصاً ان مظلوم احمدیوں کے ناموں سے بھی آشنا نہیں ، اس قدر بے چین ہیں کہ بسا اوقات وہ لکھتے ہیں کہ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ کس طرح اپنے درد کا اظہار کریں ، سوائے اس کے کہ خدا کے حضور ہم تڑپ رہے ہیں اور کوئی چارہ نہیں۔یہ پہلو اس لحاظ سے بہت ہی خوش کن ہے کہ جماعت احمدیہ کو خدا تعالیٰ نے وہ مقام عطا فرما دیا ہے جس کے متعلق حضرت اقدس محمد مصطفی ملالہ نے خبر دی تھی کہ مومن کی یہ علامت ہوتی ہے کہ اپنے بھائی کے لئے اسی طرح دکھ محسوس کرتا ہے، اس طرح کرب محسوس کرتا ہے جیسے ایک بدن کے حصے ہوں ، اگر ایک پاؤں کی انگلی کو بھی ذراسی تکلیف پہنچے تو سارا بدن اس کے لئے بے قرار ہو جاتا ہے۔( بخاری کتاب الادب حدیث نمبر : ۵۵۵۲) پس اتنی عظیم الشان دنیا میں پھیلی ہوئی جماعت اس طرح ایک بدن بن چکی ہو۔یہ اتنا بڑا خدا کا احسان ہے اور اتنا بڑا احمدیت کا معجزہ ہے کہ اگر اور کوئی سچائی کی علامت نہ بھی کسی کو نظر آئے تو یہی علامت ایک سعید فطرت انسان کے لئے کافی ہونی چاہئے۔کوئی جماعت دنیا کی ایسی دکھائیں جس کے ایک کروڑ باشندے خدا کی راہ میں دکھ اٹھانے والے اپنے دوسرے بھائیوں کے لئے اس