خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 198

خطبات طاہر جلد۵ 198 خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۶ء اس لئے جماعت کی جہاں تک دنیاوی کوششوں کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ساری دنیا میں جماعت کوشش بھی کر رہی ہے، احتجاج بھی کر رہی ہے، مختلف ذرائع استعمال کر رہی ہے۔وہاں بھی ہمارے امراء اور ہمارے وکلاء اور جو بھی اثر رکھتے ہیں کسی رنگ میں وہ سر جوڑ کر بیٹھے ہیں اور کوششیں کر رہے ہیں لیکن یہ منزل وہ ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ حیلے سب جاتے رہے اک حضرت تو اب ہے تو تو اب خدا کے سامنے جھکنے کی ضرورت ہے۔لیکن ایک بات میں کھول کر بتا دیتا ہوں کہ اللہ کی تقدیر سے راضی رہنے کا فیصلہ پہلے کرنا ہو گا۔یہ بھی اُن تقدیروں میں سے ہے جو بظاہر مکر وہ بھی نظر آئے لیکن اس کراہت کے پردے میں بے انتہا حسن پوشیدہ ہے۔جن لوگوں کے متعلق بھی سزائے موت سنائی گئی ہے امر واقعہ یہ ہے کہ پیچھے رہنے والوں کے لئے خواہ کتنا بھی دکھ ہو ان سے زیادہ خوش نصیب اس دور میں اور کوئی نہیں ہو سکتا جن کو محض لله موت کی سزا سنائی گئی اور لمبی تکلیفوں کے بعد لمبی قید کے بعد ان کو پھر یہ سعادت نصیب ہوئی کہ خدا کی نظر میں وہ ہمیشہ کی زندگی پا جانے والے ہوں۔اس لحاظ سے ان پر رحم کا سوال نہیں ، ان پر رشک کا سوال ہے۔قابل رحم وہ لوگ ہیں جو پیچھے رہ گئے ہیں، قابل رحم وہ لوگ ہیں جن کو کئی قسم کی حسرتیں ہیں۔اس پہلو سے جماعت احمدیہ کے رد عمل سے میں بہت خوش ہوں۔جیسا کہ میں بیان کرونگا ابھی بہت ہی عظیم الشان رد عمل کا اظہار کیا ہے جماعت احمدیہ نے۔لیکن اس سے پہلے ان مظلوموں کے لئے ان کے اہل خاندان کے لئے جن کے متعلق ایک ظالمانہ فیصلہ سنایا گیا ہے لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ خدا کی تقدیر کس رنگ میں ظاہر ہو۔ضروری تو نہیں ہوا کرتا کہ اللہ تعالیٰ جان لے کر ہی شہادت کا مرتبہ عطا فرمائے۔وہ لوگ جو خدا کی رضا کی خاطر خوشی سے جان دینے کے لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں ان کو آزمائش میں ڈالے بغیر بھی خدا تعالیٰ شہادت بلکہ اس سے اعلیٰ مراتب عطا فرماسکتا ہے۔اس لئے ابھی ہم کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اس خیال سے کہ ان کے لئے اور دعا کی تحریک خصوصیت کے ساتھ پیدا ہواور ان کے اہل وعیال اور عزیزوں کے لئے میں ایک خط کا ایک اقتباس سناتا ہوں جو پروفیسر ناصر احمد صاحب قریشی نے اس واقعہ سے کچھ عرصہ کے بعد لکھا۔یہ تمبر 1985ء کی چار تاریخ کا لکھا