خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 188
خطبات طاہر جلد۵ 188 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء ہیں کہ یرزق کا لفظ خدا تعالیٰ کی ہر عطا پر آتا ہے۔ہر چیز جو بندے کو ملتی ہے وہ رزق کہلاتی ہے، یعنی خدا تعالیٰ جب پیار کی باتیں کر رہا ہوتا ہے بندے سے تو وہ بھی رزق ہے، کشوف دکھا رہا ہوتا ہے تو وہ بھی رزق الہی ہے ، روحانی رزق بھی اس میں شامل ہے اور جسمانی رزق بھی شامل ہے تو جب خدا یہ وعدہ کرتا ہے کہ میں اسے رزق عطا فرماؤں گا تو مراد یہ نہیں ہے کہ صرف دنیا کے پیسے دیگا۔روحانی رزق سے بھی اس کو لذت آشنا کرے گا اور ایسے ایسے طریق پر اس کو روحانی رزق عطا فرمائے گا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کیسے آیا جیسا کہ حضرت مریم کے معاملے میں قرآن کریم بیان فرماتا ہے کہ حضرت زکریا جب حضرت مریم کی محراب میں داخل ہوا کرتے تھے، آپ کے حجرے میں اور دیکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑے بڑے عظیم الشان رزق عطا ہوئے ہوئے ہیں تو حیرت سے پوچھا کرتے تھے کہ اے بچی! تیرے پاس یہ کہاں سے باتیں آگئیں۔اس سے مراد یہی ہے یہ نہیں تھا کہ کچھ تھے پہنچ جاتے تھے جو ان کی نظر بچا کر پہنچ جایا کرتے تھے۔مراد یہ ہے کہ حضرت مریم کو عشق الہی اور معرفت کی ایسی ایسی باتیں عطا ہوتی تھیں خدا کی طرف سے کہ ایک نبی کو بھی تعجب میں ڈالتی تھیں۔جس کا اپنا مضمون تھا یہ ، جس کے گھر کی بات تھی ، وہ حیرت سے دیکھتا تھا کہ یہ تو ایک بچی ہے یہ تو خدا کی نبی بھی نہیں اور ایسے ایسے اعلیٰ رزق خدا اس کو عطا فرمارہا ہے۔تو دنیا نہیں صرف سنورتی دین بھی سنور نے لگتا ہے اور اس رنگ میں سنور نے لگتا ہے کہ انسان تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس اس طرح خدا تعالیٰ اس کے دین کو سنوارتا چلا جائے گا۔بہر حال اس مضمون پر ایک خطبہ کافی نہیں ہے کیونکہ مالی معاملات کے بعض پہلوا بھی بیان ہونے والے ہیں اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مضمون ہیں تقویٰ سے تعلق رکھنے والے جن پر میں سمجھتا ہوں کہ اس رنگ میں بات ہونی چاہئے کہ جڑ سے بات شروع کی جائے۔خدا تعالیٰ سے معاملات درست کرنے کے متعلق بات ہوتا کہ پھر بندوں کے معاملات خود بخود اس کے نتیجہ میں درست ہونے لگیں۔بہر حال جڑ کی طرف توجہ رکھے ہر احمدی اور یہ یادر کھے کہ خدا جس جڑ کی توقع رکھتا ہے وہ ثابت جڑ ہے۔مضبوط اس قوت کے ساتھ گڑھی ہوئی کہ اس کے اوپر ایک عظیم الشان درخت تقویٰ کا تیار ہو اور ابتلاء سے بالا ہو جائے۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کی توقعات ہیں بندوں سے وہ تو ایسا درخت