خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 182
خطبات طاہر جلد۵ 182 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء صرف دور ستے ہیں یا وہ وصیت کے نظام کا ممبر بنار ہے یا نہ رہے تیسرا کوئی رستہ نہیں۔بعض دفعہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارا مقام اتنا ہے، ہمارا مرتبہ اتنا ہے، ہماری پر انی جماعتی خدمات اتنی ہیں کہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہمارا مردہ تدفین سے روکا جا سکے۔میری حیثیت ہی کوئی نہیں ہے کہ میں کسی کے مردہ کو روک سکوں۔جماعت میں کسی کی حیثیت نہیں لیکن یہ معاملہ اس طرح نہیں دیکھا جائے گا۔میری حیثیت نہیں ہے کہ خدا کہے کہ نہیں داخل کرنا تو میں داخل کر دوں۔میں اس طرح اس مضمون کو دیکھتا ہوں۔میں ہوتا کون ہوں کہ میرے علم میں آجائے کہ اللہ نہیں چاہتا کہ یہ مردہ فلاں جگہ دفن ہواور میں اسے دفن کرنے کی کوشش کروں اس کے دنیاوی رعب سے ڈر جاؤں،اس کے کسی اور مرتبے کے رعب سے ڈر جاؤں۔پس یہاں تقویٰ فیصلے کرنے والے کا تقویٰ بن جاتا ہے اور دونوں جگہ امتحان پیدا کر دیتا ہے تقوی۔ایک جگہ مالی قربانی کرنے والے کا امتحان بنا ہوا تھا دوسری جگہ ان قربانیوں پر نظر ڈال کر جب بعض انتظامی فیصلے کرنے پڑتے ہیں تو ان کے لئے امتحان بن جاتا ہے۔بہر حال بہت ہی تفصیلی مضمون ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے صرف اشارے کر سکتا ہوں۔لیکن آپ یہ کو بتا دیتا ہوں کہ وصیت کا معاملہ ہو یا چندہ عام کا معاملہ ہوا گر آپ اپنے تقویٰ کے مطابق مجرم ٹھہرتے ہیں تو جماعت کے علم میں وہ بات آئے یا نہ آئے خدا کو کچھ نہیں پہنچے گا۔ساری عمر آپ کی قربانیاں بریکار جائیں گی۔ہو سکتا ہے کروڑوں روپیہ آپ نے دیا ہو لیکن اگر وہ تقویٰ سے عاری ہے تو اللہ تعالیٰ نے تو پہلے ہی کھول کے اعلان کر دیا تھا کہ بدن مجھے پہنچتے نہیں تقویٰ مجھے پہنچتا ہے ، وہ تم نے بھیجا نہیں تھا اس لئے یہاں آکر اپنے کھاتے میں کیا تلاش کر رہے ہو۔جو چیز چلی ہی نہیں گھر سے وہ وہاں پہنچے گی کیسے؟ اس لئے میں یہ بتا دیتا ہوں کہ اگر انسانی غلطی کی وجہ سے، انسانی علم کی کوتاہی کی وجہ سے ایسے لوگ دنیا میں نظر میں نہ بھی آئیں تو اللہ کی نظر سے غائب نہیں رہ سکتے اور خدا کا جوائل قانون ہے قرآن کریم میں بیان کردہ کہ یہ چیز پہنچے گی اور یہ نہیں پہنچے گی وہ قانون لازماً کام کرے گا اور پھر بہت دیر کے بعد آپ کو معلوم ہوگا کہ ہم تو کچھ بھی آگے نہیں بھیج کے آئے۔اس لئے اتنی نیکی کریں جتنی توفیق ہے اور یہ بھی تقویٰ کا تقاضا ہے کہ اپنی حد سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو۔ڈروخوف کرو۔وہ نیکی بہت اچھی ہے اگر چہ تھوڑی ہے جو اپنی حالت میں درست