خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 181
خطبات طاہر جلد۵ 181 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء ہمارے سامنے رکھا کہ خدا کی چراگاہوں کے اتنا قریب نہ جایا کرو یعنی سرحدوں کے قریب کہ آخر ٹھوکر لگے اور تم سرحد پار کر جاؤ اور خدا کی زمین میں منہ مارنے لگو۔تو کچھ دیر تک تو وہ جرأت اختیار کرتے کرتے سرحد کے قریب ہونے لگ جاتے ہیں۔مشکوک معاملات میں اپنے حق میں فیصلے کرنے لگ جاتے ہیں اور کچھ دیر کے بعد پھر پر لی طرف کا گھاس نرم و نازک اور سرسبز جو نظر آتا ہے تو برداشت نہیں ہوسکتا پھر وہاں بھی منہ جانا شروع ہو جاتا ہے۔پھر قدم داخل ہوتے ہیں پھر خدا کی زمین اپنی زمین بن جاتی ہے۔تو اس قسم کے جو معاملات ہیں ان میں بھی ایسی حد تک پہنچ کر پھر خدا سے بددیانتی کی باتیں ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور پھر وہ سمجھتے ہیں کہ اب کوئی فرق نہیں پڑتا یہ ہمارے نفس کا فیصلہ یہی ہے چنانچہ ایسے امور کئی دفعہ جب سامنے آتے ہیں تو انسان کو بڑی تکلیف ہوتی ہے بڑا سخت صدمہ پہنچتا ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان خدا سے اپنے معاملات چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔بعض موصی ایسے ہوتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے بڑی بڑی جائیداد میں دی ہیں اور وہ جب وصیت کی تھی اس وقت انہوں نے تو تھوڑی جائیداد لکھوائی ہوتی ہے اس لئے وہ ان جائیدادوں کو بلا تکلف اپنے عزیزوں اور اقرباء میں تقسیم کرتے چلے جاتے ہیں اور بہانہ یہ ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو یہ فرمایا ہے کہ مرنے کے بعد جو چھوڑو گے اس پر صرف وصیت ہے اس لئے ٹھیک ہے کوئی فرق نہیں پڑتا۔حالانکہ یہ بھول جاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بات کو ساری جماعت کی مجلس شوری نے سمجھنے کی کوشش کی اور خلیفہ وقت نے ان تشریحات پر صادر کیا ہوا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے فرمودات کی ایک تشریح پر جماعت اکٹھی ہوچکی ہے ، اس سے اگر تمہیں اختلاف کا حق ہے تو پھر وصیت کے نظام کا ممبر رہنے کا حق بہر حال نہیں ہے۔اختلاف ہے کوئی گناہ نہیں ہے کہ انسان مجبور اذہنی طور پر اختلاف کر سکتا ہے۔تو پھر ان شرطوں کو پورا نہیں کر سکتا تو ممبر نہ بنے لیکن نظام جماعت کا نمبر ہو اور نظام جماعت کے خلاف ایک انفرادی فیصلہ کر رہا ہو اور اس پر بے دھڑک عمل کر رہا ہو یہ سمجھ کر کہ چونکہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کو جانتا ہوں اور تشریح میں خود کر سکتا ہوں اس لئے میری تشریح چلے گی اور فلاں کی نہیں چلے گی۔جماعت کے معاملہ میں فرد کی کوئی تشریح نہیں چلے گی۔اس کے لئے