خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 174
خطبات طاہر جلد ۵ 174 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء پیوستہ ہوتی ہے وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاء اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچتی ہیں۔اس میں ثابت کی تصویر کھینچی گئی ہے وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ کہہ کے۔امر واقعہ یہ ہے کہ درخت کی جڑیں جتنی گہری اور مضبوط ہوں اسی نسبت سے اس کی شاخیں بلند ہوسکتی ہیں، اس کا تنا اونچا ہوسکتا ہے۔وہ درخت جن کی جڑیں سطحی ہوں وہ بہت اونچا قد اختیار نہیں کر سکتے اور اگر کسی اونچائی تک پہنچ بھی جائیں تو ہوا کے معمولی تھیڑے سے ہی وہ اکھڑ جاتے ہیں۔ثابت کہہ کر یہ بیان فرمایا کہ اتنی گہری ، اتنی گہری کہ وہ مومن کے وجود کا درخت اگر آسمان تک بھی بلند ہو جائے اور آسمان سے اس کی شاخیں باتیں کرنے لگیں تب بھی وہ جڑ نہیں ہلتی اور وہی تقویٰ کی جڑ ہے۔تقویٰ کی جڑ اگر مضبوط ہو اور گہری ہو تو مومن کی ساری روحانی زندگی کی نشو ونما اسی پر مبنی ہے۔اس کے وجود کا استحکام اس پر مبنی ہے ابتلاؤں سے بچنے کا گراسی میں واقعہ ہے کیونکہ ابتلا مثال تو ایسی ہے جیسے زلزے آئیں اور آندھیاں چلیں تو وہ درخت جن کی جڑیں کمزور ہوتی ہیں وہ اکھڑ جایا کرتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب خدا تعالیٰ نے الہاماً فرمایا کہ اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے تو اس میں سب کچھ بیان کر دیا جس کو معلوم کرنے کی ایک مومن کو حاجت ہوسکتی ہے۔اس مضمون کا زندگی کے ہر شعبے سے تعلق ہے۔صبح سے لے کے رات تک اور رات سے صبح تک ایک انسان کی زندگی پر جتنے بھی لمحات گذرتے ہیں ان سب لمحات میں یہ مضمون کسی نہ کسی رنگ میں یا جلوہ دکھا رہا ہوتا ہے یا نا کام ہو کر انسان پر کوئی داغ لگا رہا ہوتا ہے۔اور کوئی زندگی کا ایسا لمحہ نہیں جس کا اس مضمون سے تعلق نہ ہو۔کوئی انسانی دلچسپی کا شعبہ ایسا نہیں جس کا اس مضمون سے تعلق نہ ہو۔مثلاً لوگ جو کثرت سے مالی معاملات میں لین دین میں جھگڑوں کے متعلق مجھے لکھتے ہیں۔اس کا ایک علاج تو یہ ہے کہ قضاء کی طرف معاملہ کو پیش کیا جائے۔امور عامہ سے یہ کہا جائے ، کہ وہ سمجھوتہ کرانے کی کوشش کرے۔ناظر صاحب اصلاح وارشاد کولکھا جائے امیر جماعت کو توجہ دلائی جائے مگر یہ سارے علاج سطحی ہیں۔لاز ماجر میں کوئی کمزوری ہے۔لازماً کوئی بیماری ایسی ہے جس کا جڑ سے تعلق ہے اور وہ راز ہم پر کھلا کہ وہ تقویٰ کی جڑ ہے جس میں کوئی کمزوری پیدا ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں شاخیں بیماری دکھانے لگی ہیں۔پس یہ علاج بھی سطحی ہیں جو میں نے بیان کئے جب تک ہم جڑ کی طرف توجہ نہ کریں اور گہرا اتر کر اس بیماری کو وہاں دور نہ کریں اس وقت تک ہم حقیقت میں