خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 11
خطبات طاہر جلد۵ 11 خطبہ جمعہ ۳ /جنوری ۱۹۸۶ء اپنے رزق کو محدود کر دیا لیکن اعلیٰ مقاصد کے لئے اعلیٰ مصالح کی خاطر اور قومی لحاظ سے بھی بعض دفعہ خدا کے مومن بندوں کو ان معنوں میں بھی قدیر بننا پڑتا ہے اور بعض دفعہ اصلاح احوال کے لئے بھی ان کو قد سر بننا پڑتا ہے۔بچوں کی تربیت کے لئے بھی ان کو قد مر بنا بڑاتا ہے یعنی رزق بعض دفعہ بچوں کا اس غرض سے تنگ کیا جاتا ہے کہ ان کی عادتیں خراب نہ ہوں، ان کو آسائش کی زندگی کی عادت نہ پڑ جائے ، ان کے اندر خود اعتمادی پیدا ہو۔ایسی باتیں جو بظاہر محبت کے تقاضوں کے خلاف ہیں کہ انسان اپنے بچے پر رزق تنگ کر دے۔جب خدا کی صفات کو انسان سمجھتا ہے تو ایسی ہی باتوں کو اختیار بھی کر لیتا ہے اور صرف مومن کا سوال نہیں ، صاحب فہم قو میں بھی خدا کی ان صفات کی نقالی کرتی ہیں خواه براه راست ان کو قرآن کریم کا عرفان نہ بھی حاصل ہو۔چنانچہ دنیا کی قوموں میں ایسے ایسے عظیم الشان، دنیا کی نظر میں عظیم الشان لوگ موجود ہیں جن پر خدا تعالیٰ نے بے انتہاء رزق کھولا ہوا ہے لیکن وہ اپنی اولا د کو پہلے تربیت کی خاطر رزق تنگ کر کے اپنے ہی کارخانوں میں اس طرح ملازم رکھتے ہیں کہ ان کو مزدوری بھی کرنی پڑتی ہے اور پھر مزدوری سے گذر کر ان کو اور سخت کام بھی کرنے پڑتے ہیں محض اس لئے کہ ان کو محسوس ہو کہ رزق کی تنگی کیا چیز ہے اور کس طرح رزق کمایا جاتا ہے۔تو بہر حال قدیر کے بہت سے ایسے استعمالات ہیں جن کے ڈھنگ انسان خدا سے سیکھ سکتا ہے۔قَدَرَ کا ایک معنی جَمَعَہ اکٹھا کر لیا، کسی چیز کوقابو میں کرلیا، کسی چیز کو جمع کر لیا اور کسی چیز کو کسی مقصد کی خاطر روک رکھا۔اس کا تعلق بھی گہرا رزق کے ساتھ ہے۔جب خدا تعالیٰ کسی کے رزق کو وسعت دیتا ہے تو بے محابا خرچ کو پسند نہیں فرماتا بلکہ بعض ایسے قوانین جاری فرماتا ہے جن کے نتیجہ میں رزق کو برمحل استعمال کیا جائے بعض جگہ سے روکا جائے ، بعض جگہ پر جاری کیا جائے ، بعض صورتوں میں اکٹھا کیا جائے۔تو یہ ساری صفات اللہ تعالیٰ کی ایسی ہیں جن کا تعلق قدیر سے ہے اور جب آپ ان صفات پر غور کرتے ہیں تو یہ لفظ قدیر سے نکل کر پھیلنی شروع ہو جاتی ہیں۔جیسے ایک روشنی کے مرکز سے شعاعیں پھیلنے لگتی ہیں اور رفتہ رفتہ اور دیگر مضامین پر حاوی ہو جاتی ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدیر کا ایک سورج چکا ہے جس کی شعاعیں سارے جگ کو بھر رہی ہیں ہر طرف پھیل کر۔خدا تعالیٰ کی دیگر صفات کے ساتھ بھی لفظ قدیر کا ایک تعلق قائم ہونے لگتا ہے۔