خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 10
خطبات طاہر جلد۵ 10 خطبه جمعه ۳ /جنوری ۱۹۸۶ء ضرورت خدا کی مخلوقات کو پیش آئی ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ خدا کی ہر مخلوق کو خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ ہو کسی نہ کسی رنگ میں رزق دیا جاتا ہے اور ایک بھی چیز فی ذاتہ قائم نہیں ، وہ رزق کی محتاج ہے لیکن بے حساب رزق کی نہیں۔یعنی بے حساب سے مراد ہے بے ترتیب رزق کی نہیں بلکہ رزق میں تقدیر کی ضرورت ہے۔اگر رزق تناسب کی حد سے بڑھ جائے تب بھی نقصان دہ ہے۔اگر رزق تناسب کی حد سے گر جائے تب بھی نقصان دہ ہے۔تو قدر الرزق کا مطلب ہے تقسیم کیا گویا کہ قدیر وہ ذات ہے جو تمام کائنات میں رزق کی تقسیم کا نظام چلانے والی ہے اور چونکہ اس کا اقتدار سے بھی تعلق ہے اس لئے خدا کے مومن بندے جب بھی اقتدار پکڑتے ہیں تو وہ خدا کے رنگ میں قدیر بن جاتے ہیں یعنی خدا کی طرف سے دنیا کو رزق اس طرح تقسیم کرتے ہیں جیسے خدا تعالیٰ کا منشاء ہو اور اپنی طرف سے تقسیم رزق کے قوانین نہیں بناتے یا بندوں کے بنائے ہوئے تقسیم رزق کے قوانین کی پیروی نہیں کرتے بلکہ خالصہ اللہ کی قدیر ذات پر نگاہ رکھتے ہیں۔ان اصولوں کو سمجھتے ہیں جن اصولوں کے پیش نظر تقسیم رزق کا انتظام کیا گیا اور انہیں اپنا کر اپنی طرف سے انہی اصولوں کو جاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ضَيَّقَهُ رزق تنگ کیا۔قَدَرَ کا ایک یہ بھی معنی ہے وَقَدَرَ عَلَیہ کا مطلب ہے کسی پر اس کا رزق محدود کر دیا تنگ کر دیا جس کی تلخی وہ محسوس کرنے لگے۔تو بعض اوقات خدا کی طرف سے رزق تنگ بھی کیا جاتا ہے اور اس کے بہت سے مصالح ہیں، بہت سے اس کے پیچھے فلسفے ہیں جو کارفرما ہیں۔تو خدا کے مومن بندے جب وہ قدیر بننا چاہتے ہیں تو صفت قدیر کے اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کرتے اور بعض موقعوں پر وہ رزق کو تنگ بھی کرتے ہیں۔اپنے لئے اپنے خاندان کے لئے بھی اور غیروں کے لئے بھی لیکن وہ بھی محض اللہ ہوتا ہے۔مثلاً خدا کے نام پر جب کوئی تحریک کی جاتی ہے تو خدا کے مومن بندے جو اپنے گھر سے اپنے ہاتھوں سے رزق لے کر خدا کے حضور خدا کے کاموں کے لئے پیش کر دیتے ہیں۔اپنے بچوں کا رزق لے کر ، اپنی بیوی کا رزق لے کر ، اپنے احباب کا رزق لے کر، اپنے عزیز واقارب کا رزق لے کر۔یعنی رزق تو ان کا ہی ہوتا ہے لیکن عموماً وہ ان چیزوں پر خرچ کرنے والے ہوتے ہیں۔تو ان سب جہتوں سے اپنے خرچ کو روک کر جب وہ خدا کی سمت رزق کو جاری کرتے ہیں ، دینے والے کی طرف تو گویا وہ خدا کی طرف سے قدیر بن گئے۔انہوں نے