خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 160
خطبات طاہر جلد۵ 160 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۸۶ء ہوئے تم لوگوں کو حیا نہیں آتی اور ہمیں ملوث کرنا چاہتے ہو۔تو ایک طرف علماء دین کی یہ جرات اور بے با کی تھی کہ خدا اور محمدمصطفی ہے کے نام کی قسمیں کھا کر اور قرآن اُٹھا اُٹھا کر اس کلیۂ بے بنیا واقعات کی شہادت دے رہے تھے اور دوسری طرف وہ جن کو دنیا دار کہا جاتا ہے یعنی عام وکلاء اپنی روزی کمانے والے جن کا ظاہری طور پر دین سے تعلق نہیں ہے، وہ حیا محسوس کر رہے تھے کہ اس مقدمے میں فیس لے کر بھی کسی طرح ملوث ہو جائیں۔چنانچہ ان کو پھر ثانوی درجے کے بلکہ ثالثہ درجے کے وکیل ڈھونڈ نے پڑے اور وہ بھی ایسے جو پہلے ہی انہی کی طرح تعصبات کے شکار تھے۔وکیل تو بہر حال حکومت ہی مقرر کرتی ہے ایسے مقد مات میں لیکن اُس کی مدد اور اعانت کے لئے کہانی بنانے کے لئے کس طرح کا پرچہ درج ہونا چاہئے ، کس طرح پیروی ہونی چاہئے ، ان ساری باتوں میں بہر حال ان کو وکلاء کی ضرورت تھی۔چار آدمی ان میں سے چونکہ جاچکے تھے اُس علاقے کو چھوڑ کر، پہلے ان کو علم ہو گیا تھا اس لئے ان پر تو پولیس قبضہ نہیں کر سکی لیکن جو سات تھے ان کو طرح طرح کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بہت لمبی کوئی ڈیڑھ سال کا عرصہ یا اس سے زیادہ عرصہ ہو گیا تقریباً بہت شدید تکلیفیں پہنچائی گئیں لیکن اللہ کے فضل سے وہ لوگ ثابت قدم رہے اور جو دو وکلاء بعد میں پیش ہوئے ان کے متعلق جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے وہاں کے وکلاء کا اتنا زور تھا۔اتنا دباؤ تھا حکومت پر وہ غیر احمدی تھے ان کا احمد یوں سے کوئی بھی تعلق نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے جو ظلم کرنے ہیں دوسروں پر کرو مگر ہم اپنی برادری پر ہاتھ نہیں ڈالنے دیں گے۔تو یہ برادری کی روح جو ہے یہ وہاں ان کے کام آئی اور اس کے نتیجے میں اُن کو بری کر دیا گیا مگر چند مہینے کی قید کے مصیبت کے بعد۔اس مقدمے کا جو فیصلہ سنایا گیا ہے اُس کی روح سے دو احمدیوں کو جن میں ایک ہمارے مربی سلسلہ بھی ہیں موت کی سزا سنائی گئی ہے اور باقی کو عمر قید چھپیں چھپیس سال قید با مشقت۔یہ مقدمہ تو شروع سے آخر تک جھوٹ ہی جھوٹ ہے لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ اس فیصلے کی توثیق صدر نے خود کی ہے اور فخر کے ساتھ اس بات کا اعلان کروایا ہے اخباروں میں کہ اس قتل کے ذمہ دار جو احمدیوں کو قتل کرنے کا ہم ارادہ رکھتے ہیں اس کے ذمہ دارصدر پاکستان ہیں اور انہی کی توثیق سے یہ سزا جاری کی جارہی ہے۔