خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 153
خطبات طاہر جلد۵ 153 خطبه جمعه ۱۴ار فروری ۱۹۸۶ء نہیں ہیں ہم انسان کو جواب دہ نہیں ہیں خدا کو ضرور جوابدہ ہیں۔اس لئے خاوند اگر اپنی بیوی کے حقوق ادا نہیں کرتا تو وہ جواب دہ ہے، بیوی اگر خاوند کے حقوق ادا نہیں کرتی تو وہ جوابدہ ہے۔اور إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا کی آیت عنوان بن گئی ہے اس جوابدہی کا ، ہر وقت یہ نگرانی ہو رہی ہے، ہر وقت جوابدہی ہو رہی ہے۔اگر باپ اپنے بچوں کے حقوق ادا نہیں کر رہایا ان سے بدتمیزی کرتا ہے، بخت کرتا ہے ظلم کرتا ہے یہ سجھتا ہے کہ میری اولاد ہے جو چاہوں میں کروں وہ بھی جوابدہ ہے اور جو باپ کھلی ڈوریاں چھوڑ دیتا ہے کہ جی یہ زمانہ ہی نہیں ہے اولاد پر تختیوں کا اولا د آزاد ہے جو چاہئے کرتی پھرے،اسے کیوں میں نیکی کی تعلیم دوں، اس نے اپنی قبر میں پڑنا ہے میں نے اپنی قبر میں پڑنا ہے۔جو اس حد تک بات کو پہنچادیتا ہے وہ بھی جوابدہ ہے۔اپنی سختیوں کے بھی ہم خدا کے سامنے جوابدہ ہیں اپنی نرمیوں کے بھی جوابدہ ہیں اور لازماً ہمیں وہ توازن پیدا کرنا پڑے گا جو توازن قرآن اور سنت ہم سے چاہتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کلکم راع وكلكم مسؤل عن رعيته ( بخاری کتاب الاستقراض حدیث نمبر :۲۲۳۲) کہ دیکھو ہر ایک تم میں سے چرواہا ہے۔یہ خیال مت کرو کہ تم مالک ہو بھیڑوں کے ہم چرواہے ہو اور چرواہا ایک ایک بھیڑ کا حساب دیتا ہے مالک کو گھر جا کر اسکو ثابت کرنا پڑتا ہے کہ فلاں بھیڑ اگر ضائع ہوئی تو اس وجہ سے ضائع ہوئی اسکا قصور نہیں اور پھر اس کے بعد آنحضرت علی تفصیل بیان فرماتے ہیں کہ کس طرح تم راعی بنتے ہو۔کہتے ہیں گھر کا مالک جو ہے وہ بھی راعی ہے اپنی بیوی اور بچوں کے لحاظ سے وہ خدا کے حضور جوابدہ ہوگا اور بیوی بھی جوابدہ ہوگی اور پھر سارے کا سارا انسانی نظام اپنے اپنے دائرہ کار میں اس حدیث کی رو سے جوابدہ بن جاتا ہے۔پس معاشرے کی اصلاح بہت ہی ضروری ہے لیکن ہو گی جیسا کہ میں نے بیان کیا گھروں کی اصلاح سے اور گھروں کی اصلاح میں جوابدہی کا تصور ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔انسان خدا کے نام پر ایک نصیحت کرتا ہے اور بعض دفعہ ایک سے زیادہ دفعہ بھی نصیحت کرتا ہے لیکن مستقل طور پر نہ وہ ساتھ رہ سکتا ہے ہر گھر میں نہ نصیحت کو قبول کرنے والے سارے ایک ہی طرح کے انسان ہوتے ہیں۔پھر وقتی جوش آتا ہے بعض دفعہ معاشرے کی اصلاح پر دو خطبات ہو گئے۔پھر تھوڑی سی تبدیلیاں پیدا ہونے کے آثار ظاہر ہوئے اور پھر وہ بھول گئے پھر اور باتیں شروع ہو گئیں۔لیکن اگر یہ مضمون