خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 152
خطبات طاہر جلد۵ 152 خطبه جمعه ۴ ار فروری ۱۹۸۶ء جب بیوی کے آتے ہیں تو رونق آجاتی ہے گھر میں ، دوڑتی پھرتی ہے ، خدمتیں ہو رہی ہیں اور خوب لذتیں حاصل کی جارہی ہیں ہر طرح کی مجلسیں لگتی ہیں اور خاوند کی بہن آجائے یا اس کی ماں آجائے تو یوں لگتا ہے جس طرح موت کی خبر آگئی اور پھر وہ بد سلوکی کے سوطریقے اختیار کرتی ہے۔عورت جہاں تسکین کا سامان بنتی ہے وہاں عدم تسکین کا بھی اتنا ہی سامان بن سکتی ہے۔جس شخص میں تسکین پہنچانے کا مادہ خدا تعالیٰ نے رکھا ہوا ہو تسکین چھینے کا مادہ بھی اس میں اتنا ہی پایا جاتا ہے۔اس لئے عورت اور مرد میں عورت جیسی تسکین نہیں پہنچا سکتا کوئی مرد اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے لیکن جب تسکین چھیننا چاہے تو مرد کے مقابلہ پر عورت کو بہت زیادہ طریقے معلوم ہیں کہ کس طرح تسکین چھینی جاتی ہے۔تسکین کی آماجگاہ کی بجائے گھر کو بے چینیوں کی آماجگاہ بنادیتی ہے اور عذاب بن جاتی ہے۔خاوند تو بہ کرتا ہے کہ خدا کرے کہ میرا کوئی رشتہ دار نہ آئے یہاں پر کبھی۔عذاب الہی کی طرح اس کے رشتے دار اس گھر پر نازل ہونے لگتے ہیں۔یہاں تو یہ سارا بنیادی قصور قرآن کریم کے بعض احکامات کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں ہے۔آنحضرت ﷺ نے جو آیات چنیں سب سے پہلی یہ آیت ہے جو نکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہے۔وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُوْنَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا تک فرمایا کہ اگر تم رحمی رشتہ در اوں کو نظر انداز کرو گے تو خدا تم پر نگران ہے، وہ تمہیں ضرور پکڑے گا۔اس لئے ان تمام امور میں ہمیں لازماً قرآن کی پناہ میں واپس جانا پڑے گا۔ہمارا معاشرہ جہاں جہاں قرآن کی حدود پھلانگ کے باہر نکل چکا ہے اس کو تسکین مل ہی نہیں سکتی جب تک وہ واپس نہ آ جائے اور یہ خیال کہ ہمارا گھر ہے کوئی ہمیں اپنے گھر کے اندر کیوں کچھ کہتا ہے یا ہم اپنے گھر میں آزاد ہیں جو چاہیں کریں یہ غلط خیال ہے۔قرآن کریم اس تصور کو رد کر رہا ہے۔قرآن کریم ملکیت صرف خدا تعالیٰ کی بتاتا ہے لِلهِ الْأَمْرُ (الرعد:۳۲) صرف اللہ کا حکم ہے اور ہمارے پاس ہر چیز امانت ہے عارضی طور پر ہے۔یہ خیال ہی غلط ہے کہ ہم آزاد ہیں اپنے گھروں میں جو چاہیں کرتے پھریں ہم ہر گز آزاد