خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 151 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 151

خطبات طاہر جلد۵ 151 خطبه جمعه ۱۴ار فروری ۱۹۸۶ء ایک ہی لذت یابی کا تصور باقی رہ گیا ہے اور اگر وہ پورا نہ ہو تو پھر دوسرے اور کوئی ذریعہ نہیں ہے اسکو تسکین قلب کے لئے۔چنانچہ ایسی سوسائٹی میں پھر لوگ پاگل ہونے لگ جاتے ہیں۔یہ جتنے جنسی مریض ہیں یہ پاگل پن جو اس معاشرے کا خود پیدا کردہ ہے۔جس شاخ پر بیٹھے ہوئے ہیں یہ اس کو کاٹ چکے ہیں خود ہی ، اب ان کے لئے ہلاکت کے سوا کچھ بھی باقی نہیں۔اس لئے قرآن کریم نے صلہ رحمی پر زور دیا اور آنحضرت ﷺ نے تو اس کثرت سے یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ اگر تمام ارشادات کو اکٹھا کیا جائے تو یہ ایک ضخیم کتاب بنتی ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ کو صلہ رحمی پر زور دینا چاہئے اور صلہ رحمی میں جہاں تک اپنے ماں باپ کا تعلق ہے اس میں تو زیادہ سکھانے کی ضرورت نہیں ہے، الا ماشاء اللہ عمو مالوگ یہ حقوق ادا کرتے ہی ہیں نسلاً بعد نسل ہمیں ماں باپ اور بہن بھائی کی محبت ورثے میں مل چکی ہے اور اس لحاظ سے ہمارا معاشرہ خدا کے فضل سے مضبوط ہے۔ابتلاء آتا ہے شادی کے موقع پر۔تبھی آنحضرت ﷺ نے نکاح کے موقع پر تلاوت کے لئے جو آیات اکٹھی کیں ان میں یہ آیت داخل فرمائی وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْاَرْحَامَ (النساء:۲) کہ دیکھو اپنے تمہارے رحمی رشتے جو ہیں ان کے سلسلہ میں تو تم ہو ہی واقف لیکن اب تم ایک ایسے تعلق میں باندھے جارہے ہو جہاں دوسرے کے رحم کا بھی خیال کرنا پڑے گا، دوسرے کے رحمی رشتوں کو بھی اپنا سمجھنا پڑے گا۔اسکا فقدان ہے جس کے نتیجے میں ہمارا معاشرہ بہت سے دکھوں میں مبتلا ہے۔لڑکی جب جاتی ہے اپنے سسرال میں تو بعض سسرال ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ لڑکی کے اپنے ماں باپ بھائی بہن وغیرہ وہ سب گویا اس کے لئے پرائے ہو چکے ہیں اور اتنے پرائے ہو چکے ہیں کہ اس کو ملنے آئیں تو ان کو تکلیف ہوتی ہے اور وہ ملنے جائے تو ان کو تکلیف ہوتی ہے ان کے طعنے دیئے جاتے ہیں، ان کے نقائص اسکے سامنے بیان کئے جاتے ہیں اور ہر طرح سے ان رشتوں کو اذیت کا موجب بنادیا جاتا ہے۔اس کے برعکس بھی شکل نظر آتی ہے کہ بعض عورتیں اپنے خاوندوں کو کاٹتی ہیں اپنی بہنوں سے ، ماؤں سے، اپنے دوسرے عزیزوں سے وہ ہنس کے بات کر لیں تو ان کو تکلیف ہوتی ہے، وہ ان کی ذمہ درایاں ادا کریں تو ان کو تکلیف پہنچتی ہے ، گھر میں کوئی مہمان آجائے تو آگ لگ جاتی ہے اور عجیب حالت نظر آتی ہے۔بعض گھروں میں میں نے دیکھا ہے کہ اپنے رشتہ دار