خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 149
خطبات طاہر جلد۵ 149 خطبه جمعه ۱۴ار فروری ۱۹۸۶ء جب شادی ہوتی ہے تو انکوٹھوکریں لگتی ہیں۔تو قرآن کریم نے جو تین بنیادی باتیں بیان فرمائی ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے جن کا خلاصہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے لفظ دین میں بیان فرما دیا ہے اگر ہم شادیاں کریں اور ان چیزوں کو فروغ دیں اور بار بار اپنے معاشرہ میں یہ باتیں پھیلائیں کہ یہ وہ ایسے اعلیٰ مقاصد ہیں شادی کے کہ جن کے نتیجے میں جیسا کہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے خدا وعدہ کرتا ہے تم سے کہ دنیا میں اس عارضی مقام میں بھی تمہیں جنت عطا ہوگی اور آئندہ دائی مقامات میں بھی تمہیں جنت عطا ہوگی اور پھر ایک ایسی اولا د کو پیچھے چھوڑ کر جاؤ گے جو متقی ہوگی اور لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا کی تمہاری تمنا پوری ہو جائے گی مگر افسوس ہے جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے ان سارے امور کو بالعموم نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اسلامی معاشرہ کی ایک روح ہے اور وہ روح ہے خاندانوں کا رحمی رشتوں پر قیام اور رحمی رشتوں کو اہمیت دینا۔خاندان کا جو تانا بانا بنا جاتا ہے اس میں کوئی نہ کوئی مرکزی محرک پایا جاتا ہے۔ہر سوسائٹی کا الگ الگ محرک ہوتا ہے۔قرآن کریم وہ محرک یہ بیان فرما رہا ہے کہ تم نے رحمی رشتوں کو فروغ دینا ہے اور ان تعلقات کو آگے بڑھانا ہے اور مغربی دنیا میں اس کے بر عکس قطع رحمی بنیادی اصول دکھائی دیتی ہے۔تمام مغربی معاشرے میں آپکو قطع رحمی کا رجحان نظر آئے گا۔اتنا بڑھ جاتا ہے یہ رحجان کہ بیٹے کے ماں سے تعلقات نہیں رہتے ، بیٹی کے باپ سے تعلقات نہیں رہتے اور یہ بڑھے کثرت کے ساتھ جو آپ کو اکیلے تنہا زندگی بسر کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جو قومی خیرات پر پل رہے ہوتے ہیں یہ قطع رحمی کا نتیجہ ہے۔ترس جاتے ہیں بعض لوگ پاگل ہو جاتے ہیں ، بعض خود کشیاں کر لیتے ہیں صرف اس وجہ سے کہ خاندان والے انکے اپنے بیوی، بچے ، بہو، بہنیں انکو ایک بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں معاشرہ سنبھالے آپ ہی ان کو ، ہمارا کیا ہے، ہم تو اپنا عیش و عشرت میں وقت گزاریں گے اور بوجھ اٹھانے کے لئے تیار نہیں۔تو قرآن کریم نے صلہ رحمی کو جو بنیاد بنایا مغربی معاشرے میں بالکل اس کے برعکس قطع رحمی پر اپنے معاشرے کی بنیاد ڈالی ہے۔اس لئے اس حصہ کو نظر انداز کرنے سے بھی بہت سی خرابیاں ہمارے ہاں پیدا ہونگی اور بہت سی خرابیاں پیدا ہورہی ہیں اگر صلہ رحمی کو ہم نے قائم نہ کیا تو بالآخر مغربی معاشرہ پر لازماتان ٹوٹے گی جا کر۔یہ صلہ رحمی کا نتیجہ ہے کہ بہت سی بدخلقیوں سے ہم بچے رہتے ہیں۔یہ اندرونی مضبوط