خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 9

خطبات طاہر جلد۵ 9 خطبہ جمعہ ۳ /جنوری ۱۹۸۶ء بھی انسان کے لئے ممکن ہے ان صفات کا حلول کریں یعنی ان کو رائج کریں اپنی ذات کے اندر۔کس حد تک ممکن ہے اس کا میں بعد میں بیان کروں گا اور پھر خدا سے توقع رکھیں کہ وہ جس حد تک خدا کے بندے قدیر اور قادر اور مقتدر بن سکتے ہیں اس حد تک ہمیں بھی وہ اپنی صفات کی برکت سے قدیر اور قادر اور مقتدر بنائے۔لفظ قدیر پر جولغوی بحث ہے۔سب سے پہلے تو مناسب ہوگا کہ اس سے متعلق میں کچھ احباب کو آگاہ کروں اور یہ جو سلسلہ ہے قدیر، قادر اور مقتدر پر گفتگو کا یہ چونکہ ایک خطبہ میں مکمل ہونا ممکن نہیں تھا۔اس لئے میں نے اپنی طرف سے تو کوشش کی ہے کہ دوحصوں میں اس مضمون کو بانٹوں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ تیسرے خطبہ تک بھی اس کو ممتند کرنا پڑے۔بہر حال یہ کوشش کروں گا کہ مضمون کو مختصر رکھتے ہوئے دو خطبوں کے اندر اسے سمیٹوں۔قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ الأمر : قضى وَحَكَمَ بهِ عَلَیه اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ نے ایک بات کا فیصلہ فرمالیا۔تو قدیر اس ذات کو کہتے ہیں جو فیصلہ کرتی ہے اور فیصلہ کی قوت رکھتی ہے ذاتی اور انسانوں میں اس پہلو سے ہر شخص قدیر نہیں ہوتا۔کئی مشکل مقامات پر تو بڑے بڑے انسانوں کے لئے بھی فیصلے مشکل ہو جاتے ہیں لیکن بعض لوگ عام روزمرہ کی زندگی میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔یہ کریں یا وہ کریں To be or not to be یہ سوال مستقلاً ایک سوالیہ نشان بن کر ان کی زندگی کا عنوان بن جاتا ہے۔اس لئے جب آپ خدا کو قدر سمجھتے ہیں یعنی قطعی فیصلہ کرنے والا تو اس کی اس صفت کے قریب ہونا بھی آپ کے لئے ضروری ہے ورنہ ایک جھوٹے منہ کی تعریف ہوگی۔تو مومن کا کام ہے کہ وہ خدا کی یہ صفت اختیار کرے کہ فیصلہ کرنے کی قوت کو بڑھائے اور جب بھی دوٹوک باتیں سامنے ہوں جب بھی دوراہوں پر کھڑا ہوتو بعض ایسے اصولوں سے واقف ہو کہ جن کے نتیجہ میں وہ قطعی فیصلہ کر سکتا ہو اور قرآن کریم نے قدیر کو جن معنوں میں استعمال کیا ہے اس میں یہ بات سمجھنے میں بھی آسانی پیدا ہو جاتی ہے کہ فیصلے کی قوت کو کیسے بڑھایا جا سکتا ہے۔پھر قَدَرَ الرِّزْقَ قَسَمَه خدا تعالیٰ کے متعلق جب آتا ہے کہ اس نے قدر کیا رزق کو تو اس کا ایک معنی ہے کہ اس نے زرق کو تقسیم کیا اور قدیر کا معنی مستقلاً رزق کو تقسیم کرنے کا نظام جاری کرنے والا اور اس پر دنیا کو عمل پیرا کروانے والا ہے۔یعنی جب سے کائنات بنی ہے جب سے رزق کی