خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 143
خطبات طاہر جلد ۵ 143 خطبه جمعه ۴ ار فروری ۱۹۸۶ء ہےDoomed ہو جاتی ہیں ان کے متعلق وہیں لکھ دیا جاتا ہے خدا کی تقدیر کی طرف سے کہ تم نے جو مقصد اختیار کیا ہے اس مقصد کے نتیجہ میں دل کی تسکین ، آنکھوں کی ٹھنڈک نیک اور پاکیزہ اولاد کا نصیب ہونا ایک بعید کی بات بن جاتی ہے۔پھر حسد کی شادیاں بھی بڑی کثرت سے ہوتی ہیں۔اچھا خاندان دیکھنا جس کے ساتھ نام ونمود ہو۔بظاہر یہ خیال ہوتا ہے کہ شاید صرف بعض لوگ کرتے ہوں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ انسانی نفسیات میں اس کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔حسد کے متعلق میں جانتا ہوں میرے ساتھ رشتے ناطوں کا بڑی دیر سے تعلق ہے۔لوگ بڑی دیر سے مجھے لکھتے چلے آتے ہیں کہ ہمارا رشتہ کرواؤ اور بہت جگہ میں نے اس خواہش کو اگر ظاہر نہیں تو دبا ہوا ضرور دیکھا ہے۔اور بعض ماں باپ تو محض سوشل بلس Social status میں لڑکی دیتے ہیں یا لڑ کے محض سوشل سٹیٹس ( Social Status) اونچا کرنے کے لئے ایسی لڑکی ڈھونڈتے ہیں جس کے خاندان کو باہر سے دیکھا جائے تو بڑی اس میں چمک دمک نظر آئے اور ایک مقام اور ایک مرتبہ نظر آئے۔اور ایسی شادیاں بھی اکثر ناکام ہوتی ہیں۔پھر زینت، حسن کو دیکھا جاتا ہے۔حسن کے نتیجے میں مودت اور رحمت جو مقاصد میں داخل ہے وہ ضرور آ جاتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن اسے دوام حاصل نہیں ہے۔وجہ یہ ہے کہ حسن تو ایک فانی چیز ہے، ہمیشہ ایک حال پر نہیں رہتا اور نہ صرف فانی ہے بلکہ جتنا اس سے زیادہ واقفیت ہوتی چلی جائے ، جتنا قریب آجائے ، جتنا ہاتھ میں آئے اتنا ہی اس کی لذت کم ہوتی چلی جاتی ہے اور رفتہ رفتہ یہ ایک روز مرہ کی چیز بن جاتا ہے اور سیرت ایک ایسی چیز ہے جو کبھی بھی اپنی کشش نہیں کھوتی۔بالکل حسن کے برعکس نتیجہ پیدا کرتی ہے۔جتنا زیادہ کسی صاحب سیرت انسان کے آپ قریب ہوں اتنا ہی زیادہ اس سے محبت بڑھتی چلی جاتی ہے اور اس میں گراف ہمیشہ اوپر کی طرف چلتا ہے۔سیرت سے اکتا تا ہوا کبھی کوئی آدمی نہیں دیکھیں گے آپ۔لیکن حسن سے اکتاتے ہوا ضرور آپ دیکھیں گے۔اچھی سیرت وقت کے ساتھ حسین تر ہوتی چلی جاتی ہے کیونکہ سیرت میں بھی پختگی آتی ہے۔سیرت میں بھی نفیس پہلو اور زیادہ اجاگر ہونے لگتے ہیں اور صاحب سیرت کبھی بھی ایک حال پہ آپ کو ہمیشہ نظر نہیں آئیگا۔صاحب سیرت کی مثال تو فیض نے اس شعر میں دی ہے: