خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 142
خطبات طاہر جلد۵ 142 خطبه جمعه ۱۴رفروری ۱۹۸۶ء اب یورپ کے معاشرے میں وہ خرابیاں نہیں ہیں جو ہمارے معاشرے میں ہیں اور قسم کی خرابیاں ہیں لیکن وہاں بھی شادی کی نیتوں میں وہ قرآنی نیت شامل نہیں۔اس لئے یہاں کا معاشرہ بھی جب ٹوٹتا ہے تو غلط نیتوں کی وجہ سے وہ معاشرہ ٹوٹا اور بکھرتارہتا ہے اور خاندان تباہ ہوتے رہتے ہیں۔ہمارے ہاں الگ قسم کی بنیادوں پر معاشرہ قائم ہے اور وہاں بھی نیتیں اگر چہ بدلی ہوئی ہیں لیکن کچھ نہ کچھ فرق پائے جاتے ہیں یورپ کے معاشرے کے ہمارے معاشرے کے ساتھ۔ہمارے معاشرے میں جب ماں باپ شادیاں کرتے ہیں اپنے بچوں کی تو یہ ایک نبیادی فرق ہے جو یورپ کے معاشرے سے ہے۔یہاں عموماً لڑکا اور لڑکی آپس میں مل کر فیصلہ کرتے ہیں ہمارے ملک میں عموماً والدین فیصلہ کرتے ہیں مگر دونوں جگہ نیتوں کا فساد نظر آتا ہے۔بہت سی شادی کی تباہی کی وجوہات میں ایک وجہ یہ ہے کہ ماں باپ حرص سے شادی کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں۔ہمارے بچے کی خوشی اس بات میں ہے کہ امیر گھرانے کی لڑکی گھر میں آئے اور اس کے ساتھ دولت ہو، اس کے ساتھ وہ سب آرام ہوں جو دولت کے ذریعہ نصیب ہوتے ہیں۔کاریں ہوں ، ریفریجریٹر ہوں، بچے کی اعلیٰ تعلیم کے لئے اخراجات مل جائیں۔ان نیتوں کے ساتھ وہ لڑکی ڈھونڈتے ہیں اور بعض دفعہ بڑی بے شرمی کے ساتھ کھلے لفظوں میں مطالبہ بھی کرتے ہیں۔تو آنحضرت ﷺ نے جب فرمایا کہ مال کے لئے شادی کی جاتی ہے تو امر واقعہ یہ ہے کہ یہ کوئی بعید بات نہیں ہے جو شاذ و نادر نظر آتی ہو۔کثرت کے ساتھ روز مرہ ہمارے معاشرے میں مال کی شادیاں دکھائی دیتی ہیں اور مال کو حسب اور جمال پر اولیت دینے کی وجہ یہ ہے کہ عملاً ساری دنیا میں مال ہی کو اولیت دی جاتی ہے۔جب تک کسی لڑکی کو یہاں یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس کے خاوند کے پاس کافی دولت ہے یا اچھا مقام اور مرتبہ ہے جس کے نتیجہ میں وہ سہولت سے زندگی بسر کر سکے گی ،وہ فیصلہ نہیں کرتی۔لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عموماً حسن کو مال پر فضلیت دی جاتی ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرد حسن کو فضیلت دیتے ہونگے لیکن عورت بھی تو ایک فریق ہے ، عورت بسا اوقات مال کو فضیلت دیتی ہے یا جب ہم اپنے ملک کے معاشرے کو دیکھتے ہیں تو وہاں یہ کہیں گے عورت کے گھر والے مال کو فضیلت دیتے ہیں اور سب سے پہلے جائیداد دیکھی جاتی ہے اس کے دوسرے امکانات دیکھے جاتے ہیں کہ آئندہ مالی لحاظ سے اس کی ترقی کے کیا امکانات ہیں اور ایسی شادیاں شروع ہی سے جس کو کہتے