خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 141 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 141

خطبات طاہر جلد۵ 141 خطبه جمعه ۱۴ار فروری ۱۹۸۶ء دیتے ہیں مال کو ، حسب و نسب کو اور جمال کو ، اس کے حسن کو فاظفر بذات الدین تم دین کو اولیت دو، دین کو غالب رکھو تَربَتْ يَدَ اک اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو نا کام اور نا مرادر ہو گے، بدنصیب ہو گے۔یہاں ایک لفظ دین میں وہ تینوں مضمون بیان فرما دیئے گئے جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے یا پہلے ذکر کیا ہے یعنی قرآن کریم نے جو تین بنیادی وجوہات بیان فرمائی ہیں ، شادی کے محرکات بیان کئے ہیں وہ سارے دین سے تعلق رکھنے والے ہیں۔پس آنحضرت ﷺ نے لفظ دین میں ان تمام مضامین کا خلاصہ بیان فرما دیا جو قرآن کریم نے مختلف آیات میں ہمارے سامنے کھول کر رکھے اور فرمایا کہ بدقسمتی سے لوگ دین کو آخر پر کرتے ہیں لیکن میں تمہیں کہتا ہوں کہ اگر تم ہلاکت سے بچنا چاہتے ہو تو تم دین کو فضیلت دو اور دین کو اؤل کرو۔دین کا لفظ یہاں وسیع مضمون میں استعمال ہوا ہے اور اس میں عورت کا تقویٰ یا زوج کا تقوی کہنا چاہئے کیونکہ عورت کے لئے جب وہ مرد کو دیکھے یا مرد کی تلاش کرے تو وہاں بھی دین ہی کو ترجیح دینی چاہئے۔اس لئے فریق ثانی کا تقویٰ دیکھنا ، اس کا حسن خلق دیکھنا ، اس کا اچھا مزاج دیکھنا جو رفاقت میں اس کے کام آسکے اور وہ تمام باتیں جو خلق اور دین سے تعلق رکھنے والی ہیں ان کو اولیت دینا ، یہ ہے اصل قرآنی نظریے کے مطابق وہ شادی جو خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ اس دنیا میں بھی کامیاب ہوتی ہے اور آخرت میں بھی کامیاب ہوتی ہے۔کیونکہ اس مضمون کو مکمل کرتے ہوئے فرمایا کہ مستقر بھی ان کا اچھا ہوتا ہے اور مقام بھی اچھا ہوتا ہے۔عارضی قیام گاہ بھی ان کی اچھی بنتی ہے اور مستقل قیام گاہ بھی اچھی بنتی ہے یعنی اس دنیا میں بھی وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اجر پاتے ہیں اور بہت اچھے گھر کی بنیاد رکھتے ہیں، جو عارضی گھر ہے۔اور مرنے کے بعد جب مستقل رہائش گاہ انکو نصیب ہوگی تو وہ بھی بالا خانوں والی بلند و بالا اچھی رہائش گاہ نصیب ہوتی ہے۔عملاً چونکہ جیسا کہ حضوراکرم ﷺ نے فرمایا اس مضمون کو الٹ دیا جاتا ہے اس لئے دین کی بجائے ہر دوسرے مقصد سے شادی کی جاتی ہے اور شادی کے جب مقصد بگاڑ دئیے جائیں تو جیسا کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا۔انما الاعمال بالنیات ( بخاری کتاب بدء الوحی حدیث نمبر۱۱) اعمال کے نتائج کا دارومدار نیتوں پر ہوا کرتا ہے اس لئے جب نیت بدل جائے ، جب مقصد بگڑ جائے تو نتیجہ بھی اسی طرح بگڑ جاتا ہے اور ایسی شادیاں عملاً کامیاب ہو ہی نہیں سکتیں۔