خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 140 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 140

خطبات طاہر جلد۵ 140 خطبه جمعه ۱۴ار فروری ۱۹۸۶ء رفاقت سے زندگی کا سفر زیادہ عمدہ طریق پر طے کر سکو۔پھر قرآن کریم فرماتا ہے۔وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ (النساء:۲) اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کر والَّذِي تَسَاءَلُونَ بِہ جس کے واسطے دے دے کر تم ایک دوسرے سے خیر چاہتے ہو، جس کے نام پر استدعا کرتے ہو۔وَ الْاَرْحَام اور رحمی رشتوں کو نہ بھولنا،خصوصیت کے ساتھ رحمی تعلقات کو فروغ دو۔اس آیت سے اور بعض دیگر آیات سے ایک تیسری بنیادی وجہ بیاہ شادی کی یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ ایک ایسا معاشرہ قائم ہو جس میں عائلی زندگی کو ایک نمایاں مقام حاصل ہو اور خاندان کی بناء پر سوسائٹی قائم کی جائے انفرادیت کی بناء پر سوسائٹی کا قیام نہ ہو۔باہمی رشتے داریوں کا مضبوط بندھن ، اس کے نتیجے میں ایک دوسرے سے حسن سلوک ، ایک دوسرے سے پیار اور محبت گویا کہ خاندان کو بنیاد بنایا ہے اسلام کے سوشل سسٹم کا۔ہرسوشل نظام کی ایک روح اور ایک فلسفہ ہوتے ہیں۔اسلامی سوشل نظام کی روح اور فلسفہ خاندان کے نظام کو تقویت دینا ہے جس کی بنیاد ارحام پر ہے۔چنانچہ وہاں جواز دواجی زندگی کے لئے دعا سکھائی وہ بھی رحمن خدا کے بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے سکھائی اور رحمی رشتوں کو تقویت دینے کا رحمان سے تعلق آنحضرت ﷺ نے یوں بھی کھول کر بیان فرما دیا کہ رحم اور رحمان دونوں ایک ہی مادے سے نکلے ہوئے لفظ ہیں۔اس لئے وہ شخص جو رحمی رشتوں کو کاٹتا ہے اس کا رحمن خدا سے بھی تعلق کٹ جاتا ہے۔پس یہ مضمون آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے۔یہ تین بنیادی وجوہات ہیں جو قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی عائلی یا ازدواجی زندگی کی بناء ہیں۔اور جب ہم غور کرتے ہیں دنیا کے حالات پر تو ان کے سوا باقی ساری وجوہات سے شادیاں کی جاتی ہیں اور ان باتوں کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے اس نقشے کو جس طرح پایا، دنیا میں اس طرح یوں بیان فرمایا ہے۔تنكح المرأة لا ربع لما لها و لحسبها و لجما لها و لدينها فاظفر بذات الدين تربت يداك۔( بخاری کتاب النکاح حدیث نمبر : ۴۷۰۰) عموماً لوگ جو دنیا میں شادیاں کرتے ہیں وہ دین کو سب سے آخر پر کر دیتے ہیں اور اولیت