خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 138
خطبات طاہر جلد۵ 138 خطبه جمعه ۱۴ار فروری ۱۹۸۶ء میں سے اور ہماری اولا دہی سے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرماقَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اور ہمیں متقیوں کا امام بنادے۔فرمایا أُولَبِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ یہی ہیں جن کو جنت میں بلند و بالا عمارتیں دومنزلہ عمارتیں عطا کی جائیں گی اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر سے کام لیا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةٌ وَ سَلمًا اور انھیں نیک تمناؤں اور سلامتی کے ساتھ خوش آمدید کہا جائیگا ، وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے۔حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ان کی عارضی قیام گاہ بھی بہت خوبصورت حسین ہوگی اور ان کی دائمی قیام گاہ بھی بہت خوبصورت اور حسین ہوگی۔تو ان سے کہہ دے مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّيٌّ لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ یعنی ان کے مخاطب حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں فرمایا اے محمد ! تو ان سے کہہ دے یعنی عام بنی نوع انسان سے مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ اگر تمہاری دعا نہ ہو تو میرے رب کو تمہاری کچھ بھی پرواہ نہیں۔فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِرَاما کیونکہ تم دعا کے نظام کو جھٹلا چکے ہو، خدا تعالیٰ سے لقاء کے مضمون کو جھٹلا چکے ہو۔پس لازماً اسکے نتائج بلاؤں کی طرح تم سے وابستہ ہو جائیں گے۔ایسی بلائیں جو ایک غلط فعل کے نتیجہ میں انسان کو لازم ہو جایا کرتی ہیں، چمٹ جایا کرتی ہی ہیں۔ایسی چمٹنے والی مصیبتیں تمہیں آگھیریں گی۔ان آیات میں جو عائلی زندگی کا اعلیٰ مقصد بیان فرمایا گیا ہے اس کا تعلق براہ راست تزوج کے مضمون سے ہے۔کیوں ازدواجی زندگی خدا تعالیٰ نے قائم فرمائی اسکے مقاصد کیا ہیں؟ اور دراصل بنیادی مقصد جیسا کہ ہر معمولی فہم کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے انسانی زندگی کا تحفظ ہے یا یوں کہنا چاہئے زندگی کا تحفظ اور بقائے نسل ہے تا کہ ہر چیز کی نسل باقی رہے، یہ بنیادی مقصد ہے۔یہ بنیادی مقصد کن ذرائع سے حاصل ہو اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔یہ ایک لمبا مضمون ہے لیکن براہ راست یہاں اس م مضمون کا صرف اتنا تعلق ہے کہ انسان کے مقام تک پہنچتے پہنچتے انسانی زندگی اتنے بلند مقاصد حاصل کر لیتی ہے کہ اس کے نتیجے میں محض بقاء نسل مقصد ہی نہیں رہ جا تا بلکہ ایسی نسل کا بقاء مقصد بن جاتا ہے جو متقی ہو، جو نیک ہو، جو خداترس ہوا اور محض نسل کو جاری کرنا انسانی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔پس وہ مضمون جو بظاہر مشترک ہے ہر حیوانی زندگی میں اسے اس آیت نے ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا جہاں باقی حیوانی زندگی پیچھے رہ جاتی ہے اور انسان تمام حیوانی زندگی سے ممتاز ہو