خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 138

خطبات طاہر جلد ۵ 138 خطبه جمعه ۱۴ فروری ۱۹۸۶ء میں سے اور ہماری اولاد ہی سے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرما و اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اور ہمیں متقیوں کا امام بنادے۔ فرمایا أوليكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ یہی ہیں جن کو جنت میں بلند و بالا عمارتیں دو منزلہ عمارتیں عطا کی جائیں گی اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر سے کام لیا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَ سَلَّما اور انھیں نیک تمناؤں اور سلامتی کے ساتھ خوش آمدید کہا جائیگا ، وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے ۔ حَسُنَتْ مُسْتَقَرَّ أَو مُقَامًا ان کی عارضی قیام گاہ بھی بہت خوبصورت حسین ہوگی اور ان کی دائمی قیام گاہ بھی بہت خوبصورت اور حسین ہوگی ۔ تو ان سے کہہ دے مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ یعنی ان کے مخاطب حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں فرمایا اے محمد ! تو ان سے کہہ دے یعنی عام بنی نوع انسان سے مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاقُ كُمُ اگر تمہاری دعا نہ ہو تو میرے رب کو تمہاری کچھ بھی پرواہ نہیں ۔ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَاما کیونکہ تم دعا کے نظام کو جھٹلا چکے ہو ، خدا تعالیٰ سے لقاء کے مضمون کو جھٹلا چکے ہو۔ پس لازماً اسکے نتائج بلاؤں کی طرح تم سے وابستہ ہو جائیں گے۔ ایسی بلائیں جو ایک غلط فعل کے نتیجہ میں انسان کو لازم ہو جایا کرتی ہیں، چمٹ جایا کرتی ہی ہیں۔ ایسی چھٹنے والی مصیبتیں تمہیں آگھیریں گی ۔ ان آیات میں جو عائلی زندگی کا اعلیٰ مقصد بیان فرمایا گیا ہے اس کا تعلق براہ راست تزوج کے مضمون سے ہے۔ کیوں ازدواجی زندگی خدا تعالیٰ نے قائم فرمائی اسکے مقاصد کیا ہیں؟ اور دراصل بنیادی مقصد جیسا کہ ہر معمولی فہم کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے انسانی زندگی کا تحفظ ہے یا یوں کہنا چاہئے زندگی کا تحفظ اور بقائے نسل ہے تا کہ ہر چیز کی نسل باقی رہے، یہ بنیادی مقصد ہے۔ یہ بنیادی مقصد کن ذرائع سے حاصل ہو اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک لمبا مضمون ہے لیکن براہ راست یہاں اس مضمون کا صرف اتنا تعلق ہے کہ انسان کے مقام تک پہنچتے پہنچتے انسانی زندگی اتنے بلند مقاصد حاصل کر لیتی ہے کہ اس کے نتیجے میں محض بقاء نسل مقصد ہی نہیں رہ جاتا بلکہ ایسی نسل کا بقاء مقصد بن جاتا ہے جو متقی ہو ، جو نیک ہو، جو خدا ترس ہوا اور محض نسل کو جاری کرنا انسانی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔ پس وہ مضمون جو بظاہر مشترک ہے ہر حیوانی زندگی میں اسے اس آیت نے ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا جہاں باقی حیوانی زندگی پیچھے رہ جاتی ہے اور انسان تمام حیوانی زندگی سے ممتاز ہو