خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 134
خطبات طاہر جلد۵ 134 خطبہ جمعہ سے فروری ۱۹۸۶ء بنے ہوئے ہیں ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لئے وہ جنت بن جائیں گے۔بے وجہ لڑنا ، بے وجہ ایک دوسرے کو گالیاں دینا ، دکھ دینا ، طعنے دینا، مصیبت پڑی ہوئی ہے دونوں فریق کو ، نہ طعنے دینے والا خوش نہ وہ خوش جس کو طعنے دیئے جارہے ہیں۔خواہ مخواہ گھر ٹوٹ رہے ہیں، جہنم کا نظارہ ہے۔گھر تو تسکین کے لئے ہوتے ہیں۔ان گھروں میں اپنے حسن خلق کے ذریعہ جنتیں پیدا کریں۔اگر یہاں کی جنت نصیب نہ ہوئی تو وہاں کی جنت کے خواب بالکل جھوٹے نکلیں گے۔یہ میں آپ کو بتادیتا ہوں۔وہ معاشرے کی جنت جس کو ایک نبی دنیا میں پیدا کرنے کے لئے آتا ہے وہ پہلے اس دنیا میں اس کو نصیب ہوتی ہے پھر آخرت میں جا کر نصیب ہوتی ہے۔جنتـان کا جو وعدہ ہے وہ انہی معنوں میں ہے کہ ہر مومن کے لئے دو قسم کی جنتیں ہیں۔ایک اس دنیا میں وہ جنت جو وہ اپنے ہاتھ سے بنا رہا ہوتا ہے اور پھر ایک وہ جنت جو خدا اسے اس دنیا میں عطا کرتا ہے۔بے انتہا بڑھا چڑھا کر اس کو اس پہلے کی جنت سے کوئی بھی نسبت باقی نہیں رہتی۔اس لئے اپنے معاشرے کو حسین بنا ئیں۔ایک پھل تو آپ کو اسی وقت ملنا شروع ہو جائے گا اور دوسرا پھل آپ کو یہ ملے گا کہ بڑی عظیم قوت آپ میں مقناطیسی رنگ کی پیدا ہوگی۔حسین معاشرے کی طرف اردگرد کا معاشرہ کھیچتا چلا آتا ہے آپ کی تبلیغ میں عظمت پیدا ہو جائے گی ، آپ کی بات میں ایک رفعت پیدا ہوگی، بلندی پیدا ہوگی اور آپ اپنے ماحول کو کھینچ کر تیزی کے ساتھ احمدیت میں جذب کرنے لگیں گے اور اپنی ان ذمہ داریوں کو ادا کریں گے جو آج آپ کے کندھوں پر ڈالی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: ابھی نماز جمعہ کے بعد عصر کی نماز جمع ہوگی اور اس کے بعد انشاء اللہ دونماز جنازہ غائب پڑھائی جائیں گی۔ایک تو فاطمہ بیگم حضرت سیٹھ محمد عبداللہ الہ دین کی صاحبزادی جو ہندوستان میں رہتی تھیں حیدر آباد دکن میں۔وہاں سے تشریف لائیں ہوئی تھیں اپنے عزیزوں سے ملنے کے لئے لا ہور۔وہاں ان کا انتقال ہو گیا۔اپنے بزرگ باپ کی طرح بہت ہی نیک خو، نیک خلق ، عبادت گزار اور تقوی شعار خاتون تھیں۔اور دوسرا نماز جنازہ عبدالرحیم صاحب ماریشس والے کہلاتے تھے ، یہاں انگلستان