خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 130 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 130

خطبات طاہر جلد۵ 130 خطبہ جمعہ ۷ فروری ۱۹۸۶ء سے لڑتا ہے ، یہ بہت ہی نامناسب حرکت ہے یہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ ایک اگر اپنی غلطی کا اعتراف کرلے تو کیا حرج ہے۔بعض آدمی ذراذراسی بات پر دوسرے کی ذلت کا اقرار کئے بغیر پیچھا نہیں چھوڑتے۔ان باتوں سے پر ہیز کر نالازم ہے۔خدا تعالیٰ کا نام ستار ہے۔پھر یہ کیوں اپنے بھائی پر رحم نہیں کرتا اور عفو اور پردہ پوشی سے کام نہیں لیتا۔چاہئے کہ اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرے اور اس کی عزت اور آبرو پر حملہ نہ کرے۔ایک چھوٹی سی کتاب میں لکھا دیکھا ہے کہ ایک بادشاہ قرآن لکھا کرتا تھا۔ایک ملاں نے کہا کہ یہ آیت غلط لکھی ہے۔بادشاہ نے اس وقت اس آیت پر دائرہ کھینچ دیا کہ اس کو کاٹ دیا جائے گا۔جب وہ چلا گیا تو اس دائرہ کو کاٹ دیا۔جب بادشاہ سے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا تو اس نے کہا کہ دراصل وہ غلطی پر تھا مگر میں نے اس وقت دائرہ کھینچ دیا کہ اسکی دل جوئی ہو جاوے۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحه ۵۷۱-۵۷۲) یہ وہ باریک مثال ہے کسی نیکی کے ہوتے ہوئے اس میں انکسار کرنا، درست ہوتے ہوئے خوش خلقی سے پیش آنا اور انکساری سے پیش آنا۔بچے ہوتے ہوئے جھوٹوں کی طرف تذلل اختیار کرنا۔کہ ایک مولوی نے بادشاہ کی غلطی نکالی اپنی طرف سے اور غلطی نہیں تھی۔وہ وقت ہے کہ جب انسان غلطی پر نہیں ہے کہ اس کو بتائے زور کے ساتھ ، شدت کے ساتھ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہ تم خود غلط ہو۔اس وقت اس نے ایک دائرہ کھینچ دیا اور جھوٹ بھی نہیں بولا۔یہ نہیں کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو دائرہ کھینچ دیا جس سے اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ اس لفظ کوکاٹ دے گا اور بادشاہ نے اس لئے دائرہ کھینچا کہ اس دائرہ کو میں کاٹ دوں گا اور اس طرح اس کی دل جوئی بھی ہوگئی۔تو آخری تان حسن خلق پر ٹوٹتی ہے ہر بات کی اگر آپ کا خلق اعلیٰ درجے کا ہو، اگر آپ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سیکھ لیں کہ جہاں نیکی میں درجہ کمال ہے و ہیں بجزر بھی ہے۔اور بجز بتا بھی اس کو ہے جس کے پاس کچھ ہو جس کے پاس ہے کچھ نہیں اس بیچارے نے عجز کیا دکھانا ہے۔ویسی ہی بات ہے جیسے کسی کے گھر میں دال پکی ہو اور وہ کہے کہ جی