خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 129
خطبات طاہر جلد۵ 129 خطبہ جمعہ ے فروری ۱۹۸۶ء اپنے بھائیوں سے ہمددری ، ہمسایوں سے نیک سلوک کرو اور اپنے بھائیوں سے نیک معاشرت کرو اور سب سے پہلے شرک سے بچو کہ یہ تقویٰ کی ابتدائی اینٹ ہے۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ ۵۷۳) پھر فرمایا: یہ بڑی رعونت کی جڑ اور بیماری ہے کہ دوسرے کی خطا پکڑ کر اشتہار دے دیا جاوے۔“ بہت بڑی برائیاں ہمارے معاشرے کی اس طرح پھیلتی ہیں دوسرے کی تحقیر کرنا بلکہ اس کے عیب کو پکڑ کر پھر اس کو مشتہر کرنا اور مجالس میں اس کو مذاق کا نشانہ بنانا اس کے عیوب پر ہنسنا اور ٹھٹھے کرنا۔فرمایا کہ یہ بڑی رعونت کی جڑ ہے کہ ( یعنی سارا تکبر اس گندی عادت سے پیدا ہوتا ہے ) دوسرے کی خطا پکڑ کر اشتہار دے دیا جاوے۔ایسے امور سے نفس خراب ہو جاتا ہے اس سے پر ہیز کرنا چاہئے۔غرض یہ سب امور تقویٰ میں داخل ہیں اور اندرونی بیرونی امور میں تقویٰ سے کام لینے والا فرشتوں میں داخل کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں کوئی سرکشی باقی نہیں رہ جاتی۔تقویٰ حاصل کرو کیونکہ تقویٰ کے بعد ہی خدا تعالیٰ کی برکتیں آتی ہیں۔متقی دنیا کی بلاؤں سے بچایا جاتا ہے خدا ان کا پردہ پوش ہو جاتا ہے۔جب تک یہ طریق اختیار نہ کیا جاوے کچھ فائدہ نہیں۔ایسے لوگ میری بیعت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔فائدہ ہو بھی تو کس طرح جبکہ ایک ظلم تو اندر ہی رہا۔اگر وہی جوش ، رعونت ، تکبر، عجب، ریا کاری، سریع الغضب ہونا باقی ہے۔جو دوسروں میں بھی ہے تو پھر فرق ہی کیا ہے۔پھر فرماتے ہیں: ( ملفوظات جلد سوم صفحه : ۵۷۳۵۷۲) میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں باہم نزا ئیں بھی ہو جاتی ہیں اور معمولی نزاع سے پھر ایک دوسرے کی عزت پر حملہ کرنے لگتا ہے اور اپنے بھائی