خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 125 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 125

خطبات طاہر جلد۵ 125 خطبہ جمعہ ۷ فروری ۱۹۸۶ء کی کوشش کی ہے اور جو کمزوریاں پائی جاتی تھیں ان سے وہ آنکھیں بند کر لیتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ انکسار ہے ہی یہی کہ کوئی چیز موجود ہو اور پھر انسان اپنے آپ کو Humble بنائے یعنی دوسروں کے سامنے نرمی سے پیش کرے اپنے آپ کو ، عاجزی کے ساتھ دوسروں کے ساتھ معاملہ کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ساری نیکیاں اپنے حد کمال تک پہنچی ہوئی تھیں۔اگر نیکی کے معاملہ میں نعوذ بالله من ذلك تكبر جائز ہوتا تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارے بنی نوع انسان سے قطع تعلق ہو جانا چاہئے تھا اور ہر بات میں ہر ایک پر سختی کرنی چاہئے تھی اور آپ نے کسی سے کسی ایک معاملہ میں بھی سختی نہیں فرمائی۔کون سی نیکی ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنے پورے کمال اور عروج تک موجود نہیں تھی لیکن ان نیکیوں کو نافذ کرنے میں آپ نے انتہائی انکساری سے کام لیا ، نرمی سے کام لیا، محبت اور پیار سے کام لیا۔اس لئے جب آپ طعنے دیتے ہیں دوسرے کو بدیوں کے تو ، بسا اوقات اگر آپ دل پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اپنے نفس کے تکبر کی بناء پر وہ طعنہ دیا جارہا ہے۔اس لئے نیکیاں نافذ کرنے کے لئے انکساری ضروری ہے۔جو نمازی ہے وہ محبت اور انکسار کے ساتھ نماز کو رائج کرنے کی کوشش کرے، دوسرے کو اپنے سے ادنی اور ذلیل نہ سمجھے۔جوراست گو ہے وہ سچائی کو انکساری کے ساتھ رائج کرنے کی کوشش کرے۔جو معاملات کا صاف ہے وہ معاملات کے معاملے میں انصاف اور تقویٰ کی تعلیم انکساری کے ساتھ دے اور طعن آمیزی کا طریق اختیار نہ کرے۔گھروں میں بھی بہت سی لڑائیاں اسی بناء پر ہوتی ہیں۔ایک خاوند میں ایک خوبی ہے جو اس کی بیوی میں نہیں ہے وہ اس خوبی کے اوپر اپنا سر اتنا اونچا کر لیتا ہے کہ ادنی سی بھی کمزوری اس میں برداشت نہیں کر سکتا۔اور جو برائیاں اس میں ہیں وہ اس کو نظر ہی نہیں آ رہی ہوتیں۔اور ان معاملات میں پھر وہ نرمی کرنے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے۔برائیاں تو اس لئے راسخ ہو جاتی ہیں گھر میں وہ چونکہ خود برائیوں میں مبتلا ہے ان کو دور نہیں کر سکتا۔نیکیاں اس لئے راسخ نہیں ہوتیں کہ نیکیاں راسخ کرنے کا طریق متکبرانہ ہوتا ہے اور اس سے رد عمل پیدا ہوتا ہے۔میں نے کئی گھروں میں دیکھا ہے کہ جن کے بچے بالکل برعکس تصویر بنارہے ہوتے ہیں۔