خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 122
خطبات طاہر جلد۵ 122 خطبہ جمعہ ۷ فروری ۱۹۸۶ء عورتیں شوہروں پر غالب آگئی ہیں ، ان کی جرات اور دلیری حد سے بڑھ گئی ہے۔اس پر آپ نے بیویوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے کی اجازت دے دی مگر مارنے کا پھر بھی نہیں فرمایا۔اس کے کچھ عرصہ کے بعد پھر بہت سی عورتیں ازواج مطہرات کے پاس آنے لگیں اور اپنے خاوندوں کی شکایتیں کیں۔یہ سن کر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ”محمد کی بیویوں کے پاس بہت سی عورتیں اپنے خاوندوں کی شکایت لے کر آئی ہیں تم میں سے وہ شخص اچھا نہیں ہے جو اپنی بیویوں کے ساتھ بدسلوکی کرے ( ابو داؤد کتاب النکاح حدیث نمبر: ۲۱۴۵)۔اس رنگ میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاشرے کی تربیت فرمایا کرتے تھے اور تادیب کیا کرتے تھے۔وہی رنگ ہیں جو آج بھی ہمارے کام آئیں گے کیونکہ یہ وہ رنگ ہیں جو پرانے نہیں ہو سکتے۔نہ سورج کی تپش ان کو دھندلا سکتی ہے۔نہ بارش ان رنگوں کو میلا کر سکتی ہے ہمیشہ کے لئے دائم رہنے والے رنگ ہیں اور دنیا کے ہر موسم میں یہ رنگ خوب چمکتے ہیں اور خوب حسن دکھاتے ہیں۔اس لئے آج بھی یہی علاج ہے معاشرے کا۔وہ توازن پیدا کریں جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا فرمانا چاہتے تھے اور اپنے گھر میں کر کے دکھایا۔جہاں تک معاشرے کی اصلاح کا تعلق ہے اس کے باوجود بعض اوقات طلاق کی مجبوری ہوتی ہے اور ایسے مواقع آ جاتے ہیں کہ طلاق دینی پڑتی ہے یا طلاق عورت مانگتی ہے اس کو لینی پڑتی ہے لیکن دونوں معاملات میں جلدی کرنا نہایت نا مناسب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے خلاف وعید بھی فرمائی۔اس عورت کے مطلق جو طلاق کے معاملے میں جلدی کرتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ( ترمذی کتاب الطلاق حدیث نمبر: ۱۱۰۷) یعنی ایسی عورت جو جائز وجہ کے بغیر حقیقی وجہ کے بغیر خاوند سے طلاق لینے میں جلدی کرے۔فرمایا اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی طلاق میں جلدی کے بہت مخالف تھے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ کا اس زمانہ میں جس رنگ میں آپ نے احیاء کیا ہے، جس طرح دوبارہ جاری فرمایا ہے یہ تو خوش نصیبی ہے ہماری کہ وہ باتیں جو تاریخ میں پڑھا کرتے تھے اس دور میں آپ نے زندہ کر کے دکھا ئیں اور آج ہمیں اپنے معاشرے میں ان کو اسی طرح جاری کرنا ہوگا۔