خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 116
خطبات طاہر جلد ۵ 116 خطبہ جمعہ ے فروری ۱۹۸۶ء قوام کی جو تعریف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے اس کی رو سے سب سے اہم اولین ذمہ داری گھر کے ماحول کو خوشگوار رکھنے کی مرد پر ہے اور مرد کے اوپر یہ ذمہ داری اس برذمہ طرح پیدا نہیں ہوتی کہ وہ دوسروں کو زبردستی ٹھیک کرے۔ یہ تفسیر ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کہ مرد پر یہ ذمہ داری اس طرح عائد ہوتی ہے کہ اپنے آپ کو ٹھیک کرے۔ یہ پہلی دفعہ یہ نئی تفسیر میری نظر میں گزری ورنہ جتنے بھی لوگ قوام والی آیت کو پیش کرتے ہیں یوں لگتا ہے کہ جیسے مرد کو عورت پر جابر بنا دیا گیا ہے، وہ زبردستی جو چاہئے اس کے ساتھ کرے قوام ہے اس کے او پر حاکم ہے ، اس کے او پرسختی کرنے والا اور جبر کرنے والا ہے، یہ تصور پیش کیا جاتا ہے موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حقانی تفسیر سنئے بالکل اس کے برعکس تفسیر ہے، آپ فرماتے ہیں: عورتوں اور بچوں کے ساتھ تعلقات اور معاشرت میں لوگوں نے وو لیاں کھائی ہیں اور جادہ مستقیم سے بہک گئے ہیں۔ قرآن شریف ہے عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ( النساء: ۲۰) مگر اب اس کے خلاف عمل ہو رہا ہے۔ دو قسم کے لوگ اس کے متعلق بھی پائے جاتے ہیں ۔“ قوام والی بات بعد میں آئے گی لیکن لمبا اقتباس ہے اس لئے پہلے یہ دو باتیں بڑی اہم ہیں ۔ توازن رکھنا فرماتے ہیں: وو دو قسم کے لوگ اس کے متعلق بھی پائے جاتے ہیں ایک گروہ تو ایسا ہے کہ انہوں نے عورتوں کو بالکل خلیج الرسن کر دیا ہے کہ دین کا کوئی اثر ہی ان پر نہیں ہوتا اور وہ کھلے طور پر اسلام کے خلاف کرتی ہیں اور کوئی ان سے نہیں پوچھتا۔ اور بعض ایسے ہیں کہ انہوں نے خلیج الرسن تو نہیں کیا مگر اس کے بالمقابل ایسی سختی اور پابندی کی ہے کہ ان میں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں کیا جا سکتا۔ اور کنیز کوں اور بہائم سے بھی بدتران سے سلوک ہوتا ہے۔ مارتے ہیں تو ایسے بے درد ہو کر کہ کچھ پتہ ہی نہیں کہ آگے کوئی جاندار ہستی ہے یا نہیں ۔ غرض بہت ہی بری طرح سلوک کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ پنجاب میں مثل مشہور ہے کہ عورت کو پاؤں کی جوتی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں کہ ایک