خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 115
خطبات طاہر جلد۵ 115 خطبہ جمعہ ۷ فروری ۱۹۸۶ء اصل میں بعض عورتیں محض شرارت کی وجہ سے ساس کو دکھ دیتی ہیں گالیاں دیتی ہیں ، ستاتی ہیں، بات بات میں اس کو تنگ کرتی ہیں۔والدہ کی ناراضگی بیٹے کی بیوی پر بے وجہ نہیں ہوا کرتی۔سب سے زیادہ خواہش مند بیٹے کے گھر کی آبادی کی والدہ ہوتی ہے اور اس معاملہ میں ماں کو خاص دلچسپی ہوتی ہے۔بڑے شوق سے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے خدا خدا کر کے بیٹے کی شادی کرتی ہے تو بھلا اس سے ایسی امید وہم میں بھی آسکتی ہے کہ وہ بے جا طور سے اپنے بیٹے کی بیوی سے لڑے جھگڑے اور خانہ بر بادی چاہے؟ ایسے لڑائی جھگڑوں میں عموماً دیکھا گیا ہے کہ والدہ ہی حق بجانب ہوتی ہے۔“ پھر فرماتے ہیں: د بعض عورتیں اوپر سے نرم معلوم ہوتی ہیں مگر اندر ہی اندر وہ بڑی بڑی نیش زنیاں کرتی ہیں۔پس سبب کو دور کرنا چاہئے اور جو وجہ ناراضگی ہے اس کو ہٹادینا چاہئے اور والدہ کو خوش کرنا چاہئے۔دیکھو شیر اور بھیڑئیے اور اور درندے بھی تو ہلائے سے ہل جاتے ہیں اور بے ضرر ہو جاتے ہیں۔دشمن سے ہی دوستی ہو جاتی ہے۔اگر صلح کی جاوے تو پھر کیا وجہ ہے کہ والدہ کو ناراض رکھا جاوے۔‘“ ( ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۴۹۷۔۴۹۸) اس دوسرے اقتباس کو میں نے اس لئے اختیار کیا ہے کہ یہ مطلب نہیں ہے کہ جہاں والدہ اور بیوی کا اختلاف ہو وہاں فوراً بیوی کو طلاق دے کر الگ کر دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اصلاح کی تعلیم دی ہے۔فرمایا ہے کہ جہاں تک ممکن ہواصلاح کی کوشش کی جائے۔دیکھو درندے بھی رام ہو جایا کرتے ہیں اس لئے بدخوئی کو دور کرو۔لڑنے کے اصل سبب کو معلوم کرو اور حکمت کے ساتھ اس سبب کو دور کرنے کی کوشش کرو اور جب انسان حکمت سے سبب کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ بعض باتوں میں والدہ ہی قصور وار ٹھہرے۔اس صورت میں بھی والدہ کا حق یہ ہے کہ والدہ کے معاملے میں نرمی سے اصلاح کی کوشش کی جائے اور بنیادی وجہ جس سے والدہ ناراض ہوتی ہے حتی المقدور اسے دور کرنے کی کوشش کی جائے۔