خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 114
خطبات طاہر جلد ۵ 114 خطبہ جمعہ ے فروری ۱۹۸۶ء کے حکم کے بموجب والدہ کی ایسی اطاعت سے بری الذمہ کرتی ہو مثلاً اگر والدہ اس سے کسی دینی وجہ سے ناراض ہو یا نماز روزہ کی پابندی کی وجہ سے ایسا کرتی ہو تو اس کا حکم ماننے اور اطاعت کرنے کی ضرورت نہیں۔“‘ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ: ۴۹۷ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شریعت کے معاملات کے سوا جن میں خدا کے فرائض کے مقابل پر بظاہر والدہ کے حقوق آتے ہوں وہاں لازماً اللہ کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دی لیکن اس کو چھوڑ کر باقی معاملات میں مرد پر یہ ذمہ داری ڈالی کہ اگر والدہ یہ کہے کہ بیوی کو طلاق دے دو اور اس کی وجہ بیوی کا نیک ہونا نہ ہو ، عبادت گزار ہونا نہ ہو، پردہ دار ہونا نہ ہو، یہ وہ امور ہیں جن کا شریعت سے تعلق ہے تو پھر اس بحث میں پڑے بغیر کہ اس میں کیا نقص ہے بیٹے کو ماں کی بات ماننی چاہئے ۔ بظاہر یہ بات اس زمانہ کے لحاظ سے بالکل دنیا کے رجحان سے برعکس بات ہے۔ آجکل کے زمانہ کی جو رفتار ہے اور آجکل کے جو حالات ہیں سوچ اور فکر کی جو نیچ ہے یہ تو بالکل اس کے منافی بات ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب یہ فرماتے ہیں تو آگے اس کی حکمت بھی بیان فرماتے ہیں کہ ہر دفعہ یہ خیال کر لینا کہ ماں کا قصور ہے اور بہو ہمیشہ درست ہے یہ درست بات نہیں ہے۔ ماں کو بیٹے سے بہت محبت ہوتی ہے اور بیٹے کی بھلائی چاہتی ہے اور نہیں پسند کرتی الا ماشاء اللہ کے میرے بیٹے کا گھر اُجڑے۔ اس لئے جب ماں کی طرف سے کوئی شکایت پیدا ہوتی ہے تو اس کو اہمیت دینی چاہئے ۔ فرماتے ہیں کہ بسا اوقات بعض عورتیں بہت چالاکی کے ساتھ اپنے مظالم کا شکوہ کرتی ہیں اس رنگ میں کہ دوسرا متاثر ہو جاتا ہے۔ لیکن لوگ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ ان کے اندر بعض دفعہ شرارت بھی پائی جاتی ہے۔ ماں سے الگ کرنا بیٹے کو، بہنوں سے الگ کرنا ، اپنے دوسرے رحمی رشتوں سے الگ کرنا یہ بنیادی طور پر قرآنی تعلیم کے خلاف ہے اس لئے ہر وہ بات جس میں رحم پر حملہ ہوتا ہو اور قطع رمی اس کا نتیجہ نکلتی ہ وہ نا جائز اور خلاف شریعت ہے۔ یہ بنیادی اصول ہے جس کو سمجھنا چاہئے ۔ اس لئے بہوؤں کے حقوق اپنی جگہ موجود ہیں۔ اس سے کوئی انکار نہیں لیکن ماں کے ساتھ بیٹے کا رشتہ قطع کرنے کے لئے اگر کوئی بہو کوشش کرتی ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فیصلہ کے مطابق جو قرآن وسنت پر مبنی ہے ماں کو یہ بھی حق ہے کہ بیٹے کو کہے کہ اس کو طلاق دے دو۔ فرماتے ہیں: