خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 109
خطبات طاہر جلد۵ 109 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۸۶ء تھوڑا سا گزیز کیا ہے میں نے اصل مضمون سے، کہ میں یہ رہا تھا کہ اولاد کا طعنہ بھی ہمارے معاشرہ میں روز مرہ کا طعنہ ہے۔لڑکا نہ ہونا یا کوئی بچہ ہی نہ ہونا یہ انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔اس لئے ایسے طعنوں سے بھی گریز کرنا چاہئے اور بے وجہ ایسے لوگوں کی زندگیاں کیوں برباد کرتے ہیں جن کے بس میں کوئی چیز ہی نہیں ہے۔چونکہ اب دیر ہو رہی ہے۔میرا خیال تھا کہ گھنٹہ سے کم خطبہ ہونا چاہئے اس سے تھوڑا سا وقت تجاوز ہی کر گیا ہے اس لئے انشاء اللہ باقی مضمون آئندہ خطبہ میں بیان کروں گا۔بہت ہی تکلیف دہ باتیں ہیں میرے لئے کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے روز مرہ میرے علم میں یہ باتیں آتی ہیں اور جب میں ذکر کرتا ہوں خطبات میں بعض ایسی باتوں کا تو بعض لوگ یہ غلط رد عمل دکھاتے ہیں یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ حضرت صاحب کو خط ہی نہ لکھا کرو ایسے۔یہاں لندن میں کچھ دن ہوئے تقریب ہوئی تھی عورتوں میں خاتون نے اپنی طرف سے مجھ سے محبت کا اظہار کیا۔بڑی بے وقوف ہو تم عورتو ! چھوٹی چھوٹی باتیں لکھ دیتی ہو ، وہاں تکلیف پہنچاتی ہو۔یہ تکلیف میرا حق ہے اور آپ کا فرض ہے کہ مجھے یہ تکلیف پہنچائیں کیونکہ میں جوابدہ ہوں جماعت کی حالت سے بے خبر رہ کر جو سکون ہے وہ مجھے نہیں چاہئے۔مجھے معلوم ہونا چاہئے کہ جماعت پر کیا گزر رہی ہے اور کس حالت میں سے گزررہی ہے اور کس طرف اس کا رخ ہے اس لئے ہر گز اس بات سے نہ رکیں چاہے کوئی آپ کو کیسی نصیحت کرے کہ ان باتوں کو مجھ سے چھپانے لگ جائیں۔مجھے پتہ نہیں چلے گا تو میں کیسے اصلاح کی کوشش کروں گا۔مجھے پتہ نہیں چلے گا تو میں ان فرائض کو کیسے ادا کرنے کی کوشش کروں گا جو خدا تعالیٰ نے میرے ذمہ ڈالے ہیں اس لئے بے تکلف ہو کر یہ تکلیف پہنچائیں، بے تکلف ہو کر کیا! آپ کے لئے لازم ہے فرض ہے آپ کے اوپر کہ جو بھی ایسی باتیں معاشرہ میں ملتی ہیں جو قرآن اور سنت کے خلاف ہیں جو ہمارے معاشرہ کو دکھ پہنچا رہی ہیں وہ ساری باتیں ،وہ سارے دکھ میرے دل میں منتقل کیا کریں۔جتنا زیادہ یہ دکھ پہنچے گا اتنا ہی زیادہ مجھے دعا کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی، اتنی ہی زیادہ مجھے اصلاح کی طرف توجہ ہوگی اس لئے وہ بات جب ان کی سنی تو یہ مصرعہ میرے ذہن میں آگیا۔