خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 106
خطبات طاہر جلد۵ 106 خطبہ جمعہ ۳۱ / جنوری ۱۹۸۶ء چلی جاتی ہے۔تو بعض عورتیں مردوں کے متعلق لکھتی ہیں کہ ہمارے بیٹی پیدا ہوئی ہے، تین بیٹیاں ہو گئیں ، چار ہو گئیں اور وہ ہماری جان کھا رہا ہے کہتا ہے کہ میں اور شادی کروں گا ، میں تمہیں طلاق دے دوں گا، میں یہ کروں گا میں وہ کروں گا تمہارے بیٹا کیوں نہیں پیدا ہوتا۔ایک صورت میں تو ایک عورت نے یہاں تک لکھا کہ مجھے شدید مارا، بیٹی پیدا ہونے کے بعد کہ منحوس عورت تم ایک اور بیٹی لے آئی ہو اگر یہ درست ہے، اللہ بہتر جانتا ہے کہ درست ہے یا غلط لیکن اگر یہ واقعہ کہیں ہوا ہے تو بہت ہی قابل مذمت بہت ہی قابل شرم انسان، انسان کو تو یہ طعنہ دے مگر یہ تو خدا کو طعنہ دینے والی بات ہے کیونکہ یہ چیزیں تو اپنے اختیار میں نہیں ہیں لیکن بعض بچیاں ایسی ہیں جن کی اولاد نہیں ہورہی اور اس کے نتیجہ میں مسلسل ان کی زندگی عذاب میں مبتلا کی گئی ہے، وہ اپنے خطوں میں صرف یہ نہیں لکھتیں کہ ہمیں بچے کی خواہش ہے۔کہتی ہیں ہماری ساس، ہمارےسسر، ہمارے گھر کے ماحول ، ہمارے رشتہ دار اس طرح ہم سے سلوک کرتے ہیں جس طرح ہم اچھوت ہیں ، جس طرح ایک ناجائز زندگی بسر کر رہے ہیں اس گھر میں ، ہمارا حق ہی کوئی نہیں وہاں کیونکہ ہمارے بچہ نہیں پیدا ہوتا اور خاوند نرم ہونے کے باوجود مجبور ہوتا چلا جارہا ہے دن بدن اس کے بھی اعصاب ٹوٹ رہے ہیں۔یوں لگتا ہے کہ جس طرح دونوں جرم کر رہے ہیں ، ان کی زندگی جرم بن گئی ہے۔حالانکہ اولا د فی ذاتہ اس کی خواہش خواہ کتنی بھی ہو کوئی ایسی چیز نہیں کہ اولاد برائے اولا د طلب کی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے اس موضوع پر متعدد مرتبہ جماعت کو نصیحتیں فرمائی ہیں۔دو تین نمونے میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ اولاد کو فی الحقیقت انسانی زندگی میں کیا اہمیت حاصل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: کثر لوگ مجھے گھبرا کر خط لکھتے رہتے ہیں کہ آپ دعا کریں کہ میری اولاد ہو۔اولا د کا فتنہ ایسا سخت ہے کہ بعض نادان اولاد کے مرجانے کے سبب دہر یہ ہو جاتے ہیں۔بعض جگہ اولا د انسان کو ایسی عزیز ہوتی ہے کہ وہ اس کے واسطہ خدا تعالیٰ کا شریک بن جاتی ہے۔بعض لوگ اولاد کے سبب سے دہر یہ ملحد اور بے ایمان بن جاتے ہیں ، بعضوں کے بیٹے عیسائی بن جاتے ہیں تو وہ بھی اولاد کی خاطر عیسائی ہو جاتے ہیں۔بعض بچے چھوٹی عمر میں مرجاتے ہیں تو وہ