خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 101
خطبات طاہر جلد ۵ 101 خطبه جمعه ۳۱ جنوری ۱۹۸۶ء جس کا تجزیہ کریں آپ تو اس نتیجے پر نہ پہنچیں کہ کامل عقل والے نے سوچ کر یہ نمونہ بنایا ہے معلوم ایسے ہی ہوتا ہے کہ سوچ کر بنایا ہے۔ لیکن جب ذہن صحیح راستوں پر چل پڑے، جب ذہن متقی ہو جائے ، جب صحیح فیصلہ کے خلاف سوچ کسی اور طرف چل ہی نہ سکتی ہو تو پھر یہ خلق بن کر اعضاء میں اس طرح داخل ہو جاتی ہے بات کہ ہر بات سوچ کر پھر نہیں کی جاتی خود بخود ظاہر ہونے لگتی ہے آپ کو پس آنحضرت ﷺ کی زندگی حکمت کاملہ کا ایک معجزہ تھی اور ایسی حکمت کا ملہ آپ کو عطا ہوئی تھی جو صرف صلى الله میں نہیں رہتی تھی آپ کے اعضاء میں سرایت کر گئی تھی آپ کے ہر زندگی کے رد عمل میں داخل ہو چکی تھی اور اسی لئے آپ سے حسین ترین اخلاق رونما ہوئے۔ صلى الله قعہ پر حضرت صفیہ جو یہودی سردار کی بٹی تھیں اور آنحضرت ﷺ کے عقد میں آئیں تھیں ان کو ایک دوسری بیوی نے یہ طعنہ دیا کہ یہودی کی بیٹی ہے اور اس طعنہ پر وہ بہت رو رہی تھیں۔ آنحضرت ﷺ کے سامنے جب یہ بات کی تو کیا ردعمل ظاہر ہوتا ہے دیکھئے ! آپ نے فرمایا ! کیا یہ کوئی رونے کی بات ہے تمہارا تو خاوند بھی نبی ہے اور تمہارا چا بھی نبی اور تمہارا باپ بھی نبی مطلب یہ ہے کہ یہودی نسل میں یہودی آبا ؤ اجداد میں تو تم جن باپوں کی اولاد ہو وہ نبی تھے اور ایسے نبی تھے جن کے بھائی بھی نبی تھے، تو تمہارا باپ بھی نبی تمہارا چچا بھی نبی تمہارا خاوند بھی نبی ، جس نے تمہیں طعنہ دیا ہے وہ بھی یہ کہہ سکتی ہے اپنے متعلق؟ ۔ (سنن ترمذی کتاب المناقب حدیث نمبر : ۳۸۲۹) کس طرح بات کو کس حسین رنگ میں الٹا الٹایا ہے اور ایک غائب بیوی کے خلاف اس سے باتیں بھی نہیں کیں اور حکمت کا ملہ کس کو کہتے ہیں؟ ہے با پس یاد رکھیں کہ حسن کامل یعنی اخلاق کا حسن کامل حکمت کا ملہ کے نتیجہ میں رونما ہوتا ہے اور جتنا کوئی نبی اور بیوقوف ہوگا اتنا ہی زیادہ بدخلق ہوگا ۔ سوچ کے نتیجہ میں بھی حسین اخلاق پیدا ہو سکتے ہیں اور سنت محمد مصطفیٰ میں جذب ہونے کے نتیجہ میں بھی خود بخود وہ اخلاق پیدا ہوتے ہیں ۔ سوچ کے نتیجہ میں انسان غلطیاں کر سکتا ہے کیونکہ ہر شخص کی سوچ کامل نہیں ہوا کرتی اس لئے سوچ کے نتیجہ میں ، تدبر کے نتیجہ میں جو اخلاق پیدا ہوں گے ان کی ضمانت کوئی نہیں لیکن سنت کی پیروی کے نتیجہ میں جو اخلاق پیدا ہوتے ہیں ان کی کامل ضمانت ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ تم میں محمد مصطفی عالی اسوہ حسنہ ہیں ۔ پس جس کے اعمال کو خدا حسین قرار دے دے اللہ کی محبت کی اور رضا