خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 100
خطبات طاہر جلد۵ 100 خطبہ جمعہ ۳۱ / جنوری ۱۹۸۶ء کہ عائشہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہے اگر میں اس بات کو اپنی ذات پر لے لوں، خود تکلیف اٹھاؤں تو اس کا بہت زیادہ گہرا اثر اس پر پڑے گا اور اصلاح کے لئے یہ سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوگی۔پس آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ کو یہ نہیں کہا کہ تم یہ برتن اکٹھے کر وہ تم نیا برتن گھر سے لا کر دو، تم یہ کام کرو تم وہ کام کرو۔آنحضرت عے خود جھکے زمین پہ کھانا اپنے ہاتھوں سے اکٹھا کیا ، اس برتن کے ٹکڑے اکٹھے کئے ان کو جوڑا اور جوڑ کر اس میں کھانا ڈالا اور فرمایا کہ عائشہ یہ کھانا کھاؤ اور خود بھی وہ کھانا کھایا۔حضرت عائشہ نے پھر ایک نیا برتن گھر سے نکال کر دیا کہ یا رسول اللہ یہ برتن ان کو بجھوا دیں اور آنحضرت ﷺ نے وہ ٹوٹا ہوا بر تن خود جوڑ کر حضرت عائشہ کے سپرد کر دیا کہ یہ لو تم اپنے گھر رکھو اور نیا برتن لے کران بیگم کوبھجوا دیا۔اب اس چھوٹے سے واقعہ کے اوپر آپ غور کریں تو روز مرہ کی زندگی میں بہت سے فساد ہو سکتے ہیں اور ہوا کرتے ہیں۔غصہ میں آکر اس عورت کے خلاف ایک خاوند با تیں شروع کر دیتا ہے۔منہ پر چپیڑ مار دیتا ہے بعض دفعہ گالیاں دینے لگ جاتا ہے تم بدخلق تمہارے ماں باپ بھی بد خلق اور یہ اور وہ ، سارے گھر والوں کے خلاف بولنا شروع کر دیتا ہے۔بہر حال کوئی بھی غلط رد عمل ظاہر ہو وہ آگے بہت بڑے فساد پر منتج ہو سکتا ہے لیکن تحمل بردباری ، حوصلے کے ساتھ اور عقل کامل کے ساتھ اگر انسان ایک معاملہ کرتا ہے تو اس سے اعلیٰ خلق پیدا ہوتا ہے۔اعلیٰ خلق محض کوئی جذباتی نرمی کا نام نہیں ہے محض جذباتی نرمی بعض لوگوں کو بیماریوں کے طور پر ملا کرتی ہے۔بعض بوڑھے ہیں بیچارے وہ ہر بات پہ رو پڑتے ہیں ان سے برداشت ہی نہیں ہوتا ہے، بعض لوگ ہیں جو ہنستے ہی رہتے ہیں ہر وقت لوگ کہتے ہیں کہ یہ بڑا حسین خلق والا آدمی ہے ، بڑا خلیق ہے، بہت ہنستا ہے لیکن جہاں بھی ذرہ سی آزمائش ہوگی ایسا ہنسنے والا آدمی بعض دفعہ ایسا برا نمونہ دکھاتا ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔یہ بیماریاں ہیں تو خلق کا تعلق حکمت کا ملہ سے ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کامل حکمت کی بات نہ ہو اور وہ اچھا خلق ہو۔پس آنحضرت ﷺ کے متعلق جو قرآن کریم فرماتا ہے يُعَلِّمُهُمُ الكِتُبَ وَالْحِكْمَةَ (جمعہ :۳) اس میں حکمت کا تعلق خلق سے ہے اتنا ہر آپ کے فعل کے پیچھے حکمت کا سمندر موجزن ہوا کرتا تھا کہ کوئی ایک بھی فعل حضور اکرم کی زندگی کا ایسا نہیں کہ