خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 95 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 95

خطبات طاہر جلد۵ 95 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۸۶ء بھی، غیروں سے بھی انسان جیسا چاہتا ہے اپنے لئے ویسا ہی اس کے لئے بھی کرے۔اسلام کی تعلیم یہاں تک سکھاتی ہے کہ جو خود کھاؤ وہ غلام کو بھی کھلاؤ جو خود پہنو وہ غلام کو بھی پہناؤ۔اس لئے بیوی سے حسن خلق کے معاملہ میں یہ بات تو ایک روز مرہ کی بات ہے لیکن یہ فقرہ ایک بہت غیر معمولی فقرہ ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے کہ اگر تم اس سے قطع تعلق کرو تو گھر میں کرو باہر نہ کرو۔اس میں عورت کی عزت و شرف کے قیام کے لئے ایک بہت ہی اہم تعلیم دی گئی ہے۔بعض دفعہ مرد اپنی بیویوں کی بے عزتی لوگوں کے سامنے کرتے ہیں ، رشتے داروں کے سامنے یا غیروں کے سامنے اور وہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم نے ہمیں اجازت دی ہے کہ ان سے سختی کرو۔قرآن کریم کو آنحضرت ﷺ سے بہتر کون سمجھ سکتا تھا۔آنحضرت علے بخوبی جانتے تھے کیونکہ آپ پر ہی یہ کلام نازل ہوا ہے کہ بعض صورتوں میں قرآن کریم عورتوں سے عدم تعلقی کی بھی اجازت دیتا ہے جیسے سوشل بائیکاٹ ہوتا ہے مگر حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لوگوں کے سامنے بھی تم اس قطع تعلقی کو ظاہر کر دو۔جب گھر میں کوئی آیا ہو یا کوئی غیر موجود ہو یا باہر نکل کر لوگوں کے گھر جاتے ہو اس وقت لوگوں پر نہ یہ ظاہر ہونے دیا کرو کہ تمہارے اندر کوئی ناچاقی ہے اور تم اپنی بیوی سے ناراض ہو۔اور بہت سی معاشرتی خرابیاں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ عورت کو مرد سے شکایت پیدا ہوتی ہے اور مرد کو عورت سے کہ جو کچھ تم نے ہمیں کہنا تھا علیحدگی میں کہہ لیتے ، لوگوں کے سامنے کہنے کی کیا ضرورت تھی اور جب تم نے لوگوں کے سامنے کہا تو ہم جواب بھی لوگوں کے سامنے دیں گے اور چھوٹی چھوٹی باتیں بڑی بڑی باتوں پر منتج ہونے لگتی ہیں اور اس کے نتیجہ میں بسا اوقات طلاقیں ہو جاتی ہیں فتنہ وفساد پیدا ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کے بارے میں آپ کی تعلیم ہے کہ ”فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برادشت کرنی چاہئیں، یعنی یہ خیال کہ ہاتھ اٹھانے کی کھلی اجازت ہے نعوذ باللہ مردوں کو چھوٹی سی بات پہ اس کو نشوز کہہ دیا، بغاوت کہ دیا اور ہاتھ اٹھانے لگ گئے کہ قرآن کریم ہمیں اجازت دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام فرماتے ہیں کہ یہ درست نہیں ہے۔فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برادشت کرنی