خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 94
خطبات طاہر جلد۵ 94 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۸۶ء آنحضرت علی حسن خلق پر بہت ہی زور دیا کرتے تھے۔آنحضرت ﷺ نے اس کو اہل وعیال کے ساتھ سلوک کے ساتھ باندھ کر بیان فرمایا۔چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ کی روایت ہے کہ آنحضور نے فرمایا: ان من اكمل المومنين ايما نا احسنهم خلقا والطفهم باهله (سنن ترندی کتاب الایمان حدیث نمبر : ۲۵۳۷) کہ تم میں سے سب سے کامل ایمان والا مومن وہ ہے جو خلق میں سب سے زیادہ حسین ہو۔و الطفهم با هله اور اپنے اہل وعیال پر بہت ہی زیادہ لطف و کرم کرنے والا ہو۔یہ اگر صفت مردوں میں پیدا ہو جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ کم از کم نوے فیصد فساد کے محرکات اور گھروں کی زندگی کے تباہ ہونے کے محرکات ختم ہو جاتے ہیں۔مرد کی بدخوئی بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے، عورت کی بدخوئی بھی بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے لیکن بالعموم مرد کی بدخوئی کے نتیجہ میں عورتیں بھی بدخو ہونے لگ جاتی ہیں اور بنیادی طور پر مرد قوام ہے اس لئے مرد نے عورت کو اخلاق سکھانے ہیں۔جیسا کہ میں آگے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک حوالہ پڑھوں گا۔آپ نے اسی بات پر زور دیا ہے کہ اگر عورتوں میں تم حسن خلق پیدا کرنا چاہتے ہو تو اول ذمہ داری مردوں پر ہے کہ وہ حسین اخلاق کا مظاہرہ کریں تا کہ اس کے نتیجہ میں عورتیں بھی وہ خلق کے نمو نے پکڑیں اور اس کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ معاشرہ حسین ہونے لگ جائے۔ایک اور حدیث میں ذکر ملتا ہے کہ آنحضرت علیہ نے فرمایا: خير كم خير كم لا هله وانا خير كم لاهلى واذا مات صاحبكم فدعوه (سنن ترندی کتاب المناقب حدیث نمبر : ۳۸۳۰) آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے بہترین ہے اور میں تم سے اپنے اہل کے لئے بہترین ہوں۔آنحضرت ﷺ نے ایک اور موقع پر فرمایا کہ بیویوں کے ساتھ ایسا سلوک کرو کہ جب تم کھاؤ تو اس کو بھی کھلا وجب تم پہنو تو اس کو بھی پہناؤ ، چہرے پر نہ مارو، برا نہ کہو، گھر کے سوا کہیں اور اس سے قطع تعلق نہ کرو۔(سنن ابی داؤ د کتاب النکاح حدیث نمبر : ۱۸۳۰) جہاں مارنے کا ذکر ہے اس سلسلے میں میں آئندہ الگ بات کروں گا۔اس موقع پر یہ حدیث میں نے اس لئے اختیار کی ہے کہ اس میں آخری فقرہ بہت ہی زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔یہ تو آپ نے بسا اوقات سنا ہے کہ جیسا خود کرو ویسا ہی دوسرے سے بھی کر وحسن سلوک میں بھی ہر معاملہ میں یعنی صرف بیویوں سے نہیں بلکہ دوستوں سے