خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 991
خطبات طاہر جلدم 991 خطبه جمعه ۱۳؍ دسمبر ۱۹۸۵ء یہ درست ہے کہ نماز کا ہر پہلو اپنی ذات میں بہت سی وسعتیں رکھتا ہے اور یہ ناممکن ہے کہ انسان ان تمام وسعتوں سے ہر نماز میں ہر پہلو سے فائدہ اٹھا جائے۔اگر یہ کوشش کرے تو نماز غالب آجائے گی اور انسان نماز پر غالب نہیں آسکتا۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ عجز کا مضمون بھی ساتھ سکھایا کہ دیکھو! تم نیکیاں تو کرو لیکن حوصلے کے ساتھ تسلی کے ساتھ تھوڑی تھوڑی ، اپنی توفیق دیکھ کر اور رفتہ رفتہ آگے بڑھو کچھ تھوڑا سا آرام کر لیا کچھ قیلولہ کر لیا بھی صبح چلے کبھی شام کو چلے کبھی موسم کا خیال کر لیا، کبھی مزاج کا خیال کر لیا۔ان سارے امور کو مدنظر رکھتے ہوئے فرمایا تم تسلی اور حو صلے سے قدم بڑھانا ور نہ نیکیاں تمہیں تو ڑ دیں گی تم نیکیوں کو نہیں توڑ سکتے۔نیکیاں تم پر غالب آجائیں گی یعنی تمہیں بے طاقت کر کے دکھا دیں گی ، بے بس کر کے دکھا دیں گی تم نیکیوں پر غالب نہیں آسکتے۔پس جب یہ نماز کے مضمون بیان کئے جاتے ہیں یا کسی اور نیکی کے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ ایک ہی سیکنڈ میں ایک ہی لمحہ میں ان امور کے ہر پہلو پر حاوی ہونے کی کوشش شروع کر دیں جو آپ کے سامنے بیان کئے جاتے ہیں۔ہر شخص اپنے اپنے مقام اور مرتبہ پر الگ الگ کھڑا ہے اور اگر وہ اپنے نفس کے تجزیے کی عادت رکھتا ہے تو اس کو علم ہے کہ وہ کہاں ہے۔ورنہ خدا جانتا ہے کہ ہر انسان کس مقام پر کھڑا ہے۔نماز تو آپ کو رستے دکھا رہی ہے اشارے کر رہی ہے کہ اگر مجھے تم دیانت داری اور خلوص سے اختیار کرو گے تو میں تمہاری ہر ضرورت کے لئے کافی ہو جاؤں گی۔میں تمہارے ہر تصور کو پہنچتی ہوں تمہارا ہر تصور مجھ سے کوتاہ ہے، میں اس سے زیادہ انعام دینے کی طاقت رکھتی ہوں۔پس اس جہت سے نماز کے ساتھ محبت پیدا کریں اس کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں۔اس سے پورا استفادہ کرنے کی کوشش کریں۔اسے سنوار نے کی کوشش کریں گویا کہ جب آپ نماز سنوارتے ہیں تو خود سنورتے ہیں۔نماز کے ذریعہ ہی آپ کی اصلاح ہوتی ہے۔یہی ہے جو آپ کو صالح بناتی ہے۔یہی ہے جو آپ کو شہادت عطا کرتی ہے۔یہی ہے جو آپ کو صد یالقیت کے مقام تک پہنچاتی ہے اور یہی ہے جو نبوت کے رنگ آپ میں پیدا کرتی ہے۔کوئی نبی نہ بھی بنے نماز انسان کے وجود میں نبوت کے رنگ پیدا کر دیتی ہے اور یہ بھی ایک وسیع مضمون ہے یعنی ضروری نہیں کہ نبوت کا