خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 990
خطبات طاہر جلدم 990 خطبه جمعه ۱۳؍ دسمبر ۱۹۸۵ء رکوع میں نہ بھی ہوں تب بھی ان کی ساری زندگی رکوع بن جاتی ہے۔اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کی عظمت کا بار بار کا تصور اتنا ان کے نفس پر حاوی ہو جاتا ہے، اتنا ان کے خیالات پر قبضہ کر لیتا ہے کہ پھر وہ ہمیشہ گویا ایک رکوع کی حالت میں رہتے ہیں یعنی خدا کی عظمتوں کے سامنے ان کی روحیں جھک کر چلتی ہیں۔نظر نہیں اٹھا سکتیں ، سر خدا کے سامنے ہمیشہ کے لئے خم ہو جاتے ہیں۔پس سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیم کا مضمون بظاہر تین دفعہ آپ نے پڑھا لیکن اگر آپ اس کو غور سے پڑھیں اور اس کے اندر ڈوبنے کی کوشش کریں تو الہی عظمتوں کا مضمون تو ایک لا متناہی مضمون ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔پھر اسے ربی کے ساتھ منسوب کر کے پڑھیں پھر اسے سُبحَانَ کے لفظ پر غور کر کے پڑھیں تو اندرونی طور پر آپ کو اپنے نقائص دور کرنے اور یہ احساس دلانے کے لئے کتنے عظیم الشان مواقع میسر آئیں گے کہ آپ اگر سچ سچی عظیم بننا چاہتے ہیں تو ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی نقائص سے پاک کریں محض ایسی حمد اختیار کر لینی جو لوگوں کی نظر میں بڑائی پیدا کرے کافی نہیں ہے۔اندرونی نقص جب تک آپ کو نہیں کھنگالیں گے اور دور نہیں کریں گے۔اس وقت تک آپ فخر سے یہ نہیں کہ سکیں گے کہ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيم ورنہ تو پھر وہ کسی اور کا رب عظیم ہو گا تمہارا رب تو عظیم نہیں رہے گا۔اگر تم اس کی طرف حقیقت میں توجہ نہیں کرتے اور اس کیفیت کی قدر نہیں کرتے اور اسے پیار کی نظر سے نہیں دیکھتے یعنی عظمت وہ جو خرابیوں سے پاک ہو۔تو ایک دورخہ ترقی کا راستہ کھلتا ہے جس پر انسان بیک وقت سفر کر سکتا ہے۔ایک عظمتوں کا مثبت حصول اور وہ عظمتیں حاصل کرنا جو خدا کی ذات کے ساتھ وابستہ ہیں۔کیوں خدا عظیم ہے؟ اس پر غور کرنا اور پھر خدا کی ان صفات کو اختیار کرنا جنہوں نے آپ کے دل پر عظمت کا رعب قائم کیا اور پھر انسانوں میں ان صفات کو جلوہ گر دیکھنے کے بعد یہ تجزیہ کرنا کہ ان صفات کے ساتھ کون کون سی خرابیاں وابستہ ہوتی ہیں جو انسان کی عظمتوں کو کھوکھلا کر دیا کرتی ہیں، بے معنی کر دیا کرتی ہیں اور پھر چن چن کر جیسے ایک دانے صاف کرنے والی کبھی ان کو اچھالتی ہے، کبھی پھٹکتی ہے، کبھی ہاتھوں سے چن چن کر مختلف رنگ کی چیزیں مختلف شکلوں کی چیزیں الگ الگ کر کے رکھ دیتی ہے اور پھر وہ صاف کرتی ہے۔اسی طرح اپنے نفس کی چھان اور پھٹک کا سُبحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيم اتنے مواقع فراہم کرتا ہے کہ انسان اس صفائی کے دور میں اپنی عمر میں بسر کر سکتا ہے۔