خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 989 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 989

خطبات طاہر جلدم 989 خطبه جمعه ۱۳/ دسمبر ۱۹۸۵ء موجود ہیں ، نقائص موجود ہیں ، کمزوریاں ہیں۔اور مختلف بڑی بڑی عظیم شخصیتوں کا تذکرہ بھی آپ پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کے اندر بعض ایسی کمزوریاں پائی جاتی تھیں، ایسی بھیا نک کمزوریاں پائی جاتی تھیں کہ ان کمزوریوں پر نظر پڑے تو کوئی بھی عظیم نہ رہے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کی ستاری ہے کہ اس نے ہر انسان کو اپنی ستاری کے پردہ میں ڈھانکا ہوا ہے۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جس نظر سے انسان اپنے وجود کو دیکھ سکتا ہے اس نظر کے ساتھ اگر غیر اس کو دیکھیں تو اس کی ہر عصمت ہر عظمت کا پردہ چاک چاک ہو جائے گا۔جن کو آپ نیکیاں سمجھتے ہیں ان کے اندر بھی بہت سی خامیاں رہ جاتی ہیں جو کرنے والے کو پتہ ہوتا ہے کہ کیا ہیں۔اس لئے انبیاء جب اپنے وجود کے اندر نگاہ ڈالتے ہیں اور ان کی کنہ تک پہنچتے ہیں تو جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ع کرم خا کی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ( در تمین صفحه: ۱۱۵) تو ایک عجیب دردناک روح کی پکار ہوا کرتی ہے اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوتا۔ایک ایسے عارف باللہ کی درد ناک چیخ ہے جو سب نیکیوں کے باوجود جانتا ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔خدا کے فضل کے سوا، اس کی ستاری کے سوا میری کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔تو اس سے بڑی عظمت کہاں متصور ہوسکتی جو خدا کے بعد نبی کی ذات کی عظمت ہے۔توجب سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ آپ پڑھتے ہیں تو سُبحَانَ کا لفظ آپ کو بتاتا ہے کہ سب عظمتیں جھوٹی اور بے معنی اور خول تھے اور ان کے اندر حقیقت میں پس پردہ ایسے بھیا نک مناظر تھے جو کسی عظمت کو بھی عظمت نہیں رہنے دیتے لیکن دیکھو میرا رب کتنا عظیم ہے کہ اس کی عظمتیں ہر برائی سے پاک ہیں اور اس کی ہر عظمت ہر برائی سے پاک ہے۔پس سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ میں جب آپ خدا کی عظمتوں کا تصور کرنے لگیں اور اپنے ذہنوں میں اس کے مناظر بدلنے لگیں اپنی حالتوں اور کیفیات کے مطابق تو کون کہہ سکتا ہے کہ یہ تکرار بوریت پیدا کر سکتی ہے۔یا انسان اس سے اکتاہٹ محسوس کرنے لگتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جسم ساتھ نہیں دے سکتا لیکن اگر آپ کا ذہن آپ کا ساتھ دے، آپ کی روح آپ کا ساتھ دے تو کبھی ایک رکوع ختم بھی نہیں ہوسکتا۔چنانچہ قرآن کریم مومنوں کو وَهُمْ رَاكِعُونَ ( المائدہ:۵۶) فرماتا ہے کہ بظاہر وہ جسمانی