خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 988
خطبات طاہر جلدم 988 خطبه جمعه ۱۳/ دسمبر ۱۹۸۵ء رہے ہیں جو خیر وشر کی تمام طاقتیں رکھتا ہے ہمار کیا بنے گا؟ ربّی کہہ کر آپ کو ایک دعا سکھا دی اور یہ دعا در حقیقت وہ بھی کرنے لگ جاتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہمارا تھا نہیں ہم اس کو اب اپنا بنانا چاہتے ہیں۔جب کسی طاقتور کے ہاتھ میں کوئی دشمن آ جاتا ہے تو اس وقت وہ دشمن بھی اپنا بنا لیا کرتا ہے اس کو یہ بتانے کے لئے کہ اگر میں پہلے نہیں بھی تھا تو اب میں تمہارا ہو جاتا ہوں۔تو ربی کا لفظ اپنے سارے مفاہیم اپنے اندر رکھتا ہے۔ایک ایسا شخص جو خدا سے دور رہا ہو جب وہ خدا کے حضور جھکتا ہے اور اس کی عظمت کو اپنے سامنے پاتا ہے تو ربی کہہ کر یہ بتانا چاہتا ہے کہ میں عملاً تیرا ہوں اور مجھ سے اپنوں والا سلوک کرنا ، مجھ سے غیروں والا سلوک نہ کرنا۔دوسری طرف تمام دوسری عظمتیں اس کے مقابل پر زائل ہو جاتی ہیں اور عنقا ہو جاتی ہیں جب انسان رَبِّيَ الْعَظِيمِ کہہ کر اپنے رب کو اپنی طرف منسوب کرنے لگتا ہے۔کئی عظمتوں کے خیال اس کے دل پر حاوی ہوتے ہیں جب کہتا ہے میرا رب سب سے بڑا ہے۔یا میرا رب سب سے عظیم ہے۔تو باقی ساری عظمتیں اس کے مقابل پر گھل جاتی ہیں اور بے حقیقت ہو کے رہ جاتی ہیں۔تو رَبِّيَ الْعَظِیم کو پڑھنا اور غور کے ساتھ اور بوبیت کو اپنی طرف منسوب کرنے اور عظیم رب کی ربوبیت کو اپنی طرف منسوب کرنا، اس کے اندر کئی قسم کی دعا ئیں آجاتی ہیں۔ہر قسم کا انسان دنیا میں کسی نہ کسی عظمت کے ساتھ واسطہ ضرور رکھتا ہے۔یہاں تک کہ ایک طالب علم ہے اس کو اپنا استاد عظیم دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔علم کے میدان میں وہ اس سے سیکھ رہا ہوتا ہے، وہ اس پر حاوی نہیں ہوتا استاد کا علم اس پر حاوی ہوتا ہے۔زندگی کے ہر میدان میں، ہر شعبہ میں کسی نہ کسی وجود کی عظمت کا احساس رہتا ہے۔تو نماز میں جا کر اچانک آپ کو یہ پیغام ملتا ہے کہ وہ تو ساری معمولی عظمتیں ہیں۔اصل میں تو میرا رب عظیم ہے اور جو رب عظیم ہے اس سے کیوں نہ میں عظمتیں حاصل کروں۔ہر عظمت کے لئے اس کی طرف کیوں نہ جھکوں۔پس زندگی کے ہر شعبہ میں ہر چیز کا حصول اور اس کی طلب خدا کی مدد کی محتاج ہو جاتی ہے جب آپ رَبِّيَ الْعَظِیم کہتے ہیں اور اس کا اقرار کرتے ہیں۔علاوہ ازیں سبحان کا لفظ آپ کو بتاتا ہے کہ دوسری ساری عظمتیں جو آپ نے دنیا میں دیکھی تھیں وہ نقائص سے پاک نہیں تھیں۔کئی پہلوؤں سے ان عظمتوں میں بظاہر بڑی عظیم الشان چیزیں تھیں مگر جب ہم نے قریب سے دیکھایا نہ بھی دیکھا تو عقلاً ہم جانتے ہیں کہ ان کے اندر ضرور خلا