خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 982
خطبات طاہر جلدم 982 خطبه جمعه ۱۳ / دسمبر ۱۹۸۵ء انسان جو فاسد نماز پڑھتا ہے وہ صالح نہیں بن سکتا۔اس لئے ایک ذرہ بھی نماز سے با ہر نعمت نہیں ہے ساری نعمتیں نماز کے اندر آ گئی ہیں۔شہادت کے متعلق عموماً یہ تصور پایا جاتا ہے کہ گویا صرف خدا کی راہ میں جان دینے کا نام شہادت ہے حالانکہ بعض اوقات خدا کی راہ میں جان ایسی حالت میں بھی لی جاتی ہے جب انسان بے اختیار ہوتا ہے مجبور ہوتا ہے۔جاتی تو خدا کی راہ ہی میں ہے مگر کسی حملہ کرنے والے نے حملہ کر دیا، اس میں انسان بے بس تھا، مجبور تھا۔موت کے منہ میں آنکھیں ڈال کر اس کی طرف بڑھتے ہوئے جان دینا اور چیز ہے اور خدا کی راہ میں خدا کی خاطر ویسے مرجانا اور چیز ہے۔تو شہادت کے بھی بہت سے مراتب ہیں یعنی ہر شہید کا مقام ایک نہیں رہتا اسی لئے حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت کے اوپر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک کتاب لکھی اور اس کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ شہادت بظاہر ایک لقب ہے لیکن اس کے اندر بھی اتنے مراتب ہیں کہ وہ سفر بھی لگتا ہے کبھی ختم ہی نہیں ہوسکتا۔یعنی یہ نہیں ہے کہ آپ صالحیت میں داخل ہوئے اور اچانک صالحیت ختم ہوئی اور پھر شہادت کی طرف چل پڑے۔ایک لمبا دور ہے صالحیت کا جو بعض دفعہ انسان کی ساری زندگی پر حاوی ہوتا ہے۔تب بھی صالحیت کے اندر بھی انسان کا سفر ختم نہیں ہوتا اور اگلے مقام کی باری ہی نہیں آتی۔تو وہ شہادت بھی ہے جو جان دینے سے ملتی ہے لیکن اس کے پیچھے ایک روح ہے۔اگر وہ روح موجود نہ ہو تو وہ شہادت شہادت نہیں ہے۔اور شہید نام اس لئے رکھا گیا ہے کہ شہید ہونے والا خدا کو رو برود یکھ رہا ہوتا ہے اور جانتا ہے کہ میرا ایک خدا ہے جس کی طرف میں جاؤں گا۔جس حد تک یہ حضوری کا مقام کسی کو نصیب ہوتا ہے۔جس حد تک اس کی اس گواہی میں قوت پائی جاتی ہے اور ذاتی تجربہ پایا جاتا ہے کہ ہاں ایک خدا ہے اس حد تک شہادت کا مقام بلند تر ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر یہ مقام ایک ایسا مقام ہے جو خدا کی راہ میں ایک دم جان دینے کے سوا بھی ملتا ہے۔یہ غلط ہے کہ صرف جان دینے والوں کو شہید کہا جاتا ہے۔انبیاء بھی شہید ہوتے ہیں اور انبیاء میں صالحیت اور شہادت اور صدیقیت اور نبوت یہ چاروں مراتب الگ الگ نہیں ہوا کرتے کہ نبی پہلے صالح تھا پھر شہید ہوا پھر شہادت سے نکل کر وہ صدیقیت میں داخل ہوا پھر صدیقیت سے نبوت میں داخل ہوا بلکہ ان کو چاروں مراتب بیک وقت حاصل ہوتے ہیں۔اور ہر مرتبہ اپنے درجہ