خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 980
خطبات طاہر جلدم 980 خطبه جمعه ۱۳ / دسمبر ۱۹۸۵ء میں مقبول ہو جاتی ہے۔پس ایک لمبی جد و جہد جو نمازی دیانت داری سے خدا کی جانب اپنا رخ درست کرنے کے لئے کرتا ہے۔اس کا ہر پہلو اسے خدا کے قریب کر رہا ہوتا ہے۔اس کی ہر آئندہ نماز پہلے کی نسبت زیادہ سنورتی چلی جاتی ہے اس لئے نماز تو ایک بہت ہی عظیم الشان جہاد ہے۔بہت ہی وسیع جہاد ہے جو بہت لمبا عرصہ ایک زندگی چھوڑ کر اگر مسلسل کئی زندگیاں انسان کو ملیں اور وہ یہ جہاد کرتا چلا جائے تب بھی اس کا دوسرا کنارا نہیں آئے گا لیکن اس تمام جہاد کے دوران جسے خواہ ساری انسانی عمر پر بھی پھیلا دیا جائے۔تب بھی کوئی ایک مقام بھی ایسا نہیں آئے گا جہاں وہ کھڑا ہو جائے کیونکہ اس کی نماز کی حالت درست کرنے کے لئے خود نماز میں ایسی مواجہ موجود ہیں ایسے محرکات موجود ہیں، جو ہر وقت اس کو ایک نیا حسن عطا کرتے چلے جاتے ہیں۔دوسرا پہلو جس کی طرف نظر کرنے سے نماز کو بہتر بنانے کی راہ ملتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ یہ عمومی پہلو ہے جو ہر چیز پر صادق آتا ہے کہ نماز کے ہر حصہ میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے اس پر انسان غور کرے اور اس غور کے درمیان اسے بہت سی باتیں ملنی شروع ہو جائیں گی۔نماز کی حالت میں نماز کے اجزاء پر غور، ان باتوں پر غور جو انسان نماز میں پڑھتا ہے وہی ذکر اللہ ہے۔اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا زیادہ فہم اللہ تعالیٰ کی عظیم صفات کا زیادہ بہتر علم اور خدا تعالیٰ کی صفات کے رنگ اپنانے کے زیادہ اچھے مواقع میسر آنے لگتے ہیں اور بہت سی ایسی باتیں انسان کو معلوم ہو جاتی ہیں جو بغیر غور کے اگر کروڑ دفعہ بھی آپ نماز میں سے گزر جائیں تب بھی آپ کو معلوم نہیں ہوں گی۔یعنی نماز کی راہ میں بے شمار معارف بچھے ہوئے ہیں۔ہم روز ان سے گزرتے ہیں لیکن توجہ نہیں کرتے ،غور نہیں کرتے کہ کن حالتوں میں سے ہم گزرتے چلے جارہے ہیں۔مثلاً جب ہم کہتے ہیں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحه : ۶۔۷) تو یہ دعا ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھتے ہیں۔کوئی نماز قائم ہی نہیں رہ سکتی۔سورۃ فاتحہ نماز کی زندگی ہے۔جب تک سورہ فاتحہ کو اس کی ہر رکعت میں ادا نہ کیا جائے۔اس کے جو پہلے حصے ہیں ان پر مختلف وقتوں میں میں روشنی ڈالتا رہا ہوں لیکن اس سے بہت زیادہ گہرائی کے ساتھ اور وسعت کے ساتھ اور عرفان کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سورہ فاتحہ کے عظیم الشان محاسن پر روشنی ڈال چکے ہیں۔لیکن سورۃ فاتحہ تو محدود نہیں ہے۔اس کا