خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 977
خطبات طاہر جلدم 977 خطبه جمعه ۱۳/ دسمبر ۱۹۸۵ء کے لئے تفکرات ایک روک بنتے ہیں۔ایک اور فرق یہ ہے کہ مبتدی کے تفکرات اس کی نماز پر غالب آجاتے ہیں اور خدا کی راہ میں آگے بڑھنے والے یا نمازوں میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے والوں کے تفکرات پر وہ وجود غالب آجایا کرتے ہیں اور جھٹک کر ان تفکرات کو پھینک دیتے ہیں۔پس ہر موڑ پر جب آپ اللہ اکبر کی آواز بلند کرتے ہیں۔تو اللہ اکبر آپ کو بتاتا ہے کہ خدا سب سے بڑا ہے۔تفکرات کی اس وجود کی نگاہ میں جس کا خدا سے تعلق ہے کوئی قیمت نہیں رہنی چاہئے۔تفکرات خواہ وہ دنیا کے ہوں یا دین کے ہوں اللہ اکبر دل کو تسلی بھی دیتا ہے، حوصلہ بھی دلاتا ہے اور قبلہ بھی درست کرتا ہے۔فرماتا ہے کہ تفکرات کے نتیجہ میں تمہیں خدا کی طرف رخ کرنا چاہئے اور تم خدا کی طرف سے رخ ہٹا کر تفکرات کی طرف رخ کرنے لگے ہو۔پس اللہ اکبر نماز کے لئے قبلہ نما ہو جاتا ہے۔پھر بعض دفعہ انسان کی آرزوئیں اس کی توجہ خدا کی طرف سے ہٹا دیتی ہیں۔کوئی سیر کا شوق رکھتا ہے، کوئی کھیل کا شوق رکھتا ہے، کوئی دوستوں میں مجلس لگانے کا شوق رکھتا ہے، کوئی ریڈیو کا شوق رکھتا ہے، کوئی ٹیلی ویژن کا شوق رکھتا ہے، کسی کو کتابیں پڑھنے کی عادت ہے، کوئی دلچسپ کتاب پڑھتے پڑھتے نماز کا وقت آگیا کتاب الٹا کر نماز کی طرف بھاگا اور پھر کتاب نے وہ زنجیر میں پہنا دیں اس کے خیالات کو، نماز پڑھتے پڑھتے کتاب کا مضمون دوبارہ ذہن میں آنے لگتا ہے۔بھوکے کو کھانے کی طرف توجہ نماز نہیں پڑھنے دیتی۔بار بار نماز میں یہ خیال آتا ہے کہ نماز ختم کروں تو میں کھانا کھاؤں۔اکثر نمازوں میں کسائی کی حالت انہی وجوہات سے پائی جاتی ہے یعنی وہ لوگ جو ارادۂ منافق نہ ہوں جو ارادہ گناہگار نہ ہوں عملاً ان کی نماز میں بھی فی الحقیقت نفاق کا ایک رنگ تو ضرور پایا جاتا ہے۔یعنی وہ رنگ جو بشری کمزوری سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے نتیجہ میں بار بار دیگر تو جہات انسان کا چہرہ اپنی طرف موڑ لیتی ہیں۔پس اللہ اکبر کی تکرار ہر ایسے موقع پر الگ الگ معنی لے کر آپ کے سامنے آئے گی۔الله اکبر بتائے گا کہ تم تو کہتے تھے کہ خدا سب سے بڑا ہے، اب تمہیں کھانا سب سے بڑا لگ رہا ہے۔تم تو کہتے تھے کہ خدا سب سے بڑا ہے، اب تمہیں ٹیلیویژن سب سے بڑی لگ رہی ہے۔تم تو کہتے تھے خدا سب سے بڑا ہے اب تمہیں ریڈیو بہت بڑا لگنے لگ گیا ہے۔تم تو کہتے تھے خدا سب