خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 975 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 975

خطبات طاہر جلدم 975 خطبه جمعه ۱۳؍ دسمبر ۱۹۸۵ء کی روش اختیار فرمائی ہے۔کہیں ایک جگہ بھی محض غفلت کی حالت میں نماز پڑھنے کو وہ گناہ اور وہ جرم قرار نہیں دیا جس کے نتیجہ میں نماز انسان کو ہلاکت کی طرف لے جائے۔خیالات کی یورش کے نتیجہ میں کہیں بھی قرآن کریم نے ذکر نہیں فرمایا کہ ایسے شخص کی نماز لازماً رد کر دی جائے گی اور وہ گناہ کا موجب بنے گی۔بعض جوڑے مل کر ایک مکمل مضمون بناتے ہیں اور جہاں جہاں بدنمازوں کا ذکر ہے۔مہلک نمازوں کا ذکر ہے وہاں آپ ریا اور غفلت کا جوڑا اکٹھا پائیں گے۔یعنی جرم بنانے کے لئے نماز کوان دو شرائط کا اکٹھا ہونا ضروری ہے۔چنانچہ دوسری آیت جس کی میں نے تلاوت کی تھی اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ ) الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُوْنَ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ ب (الماعون : ۵-۸) ہلاکت ہوان نمازیوں پر ، لعنت پڑے ان نمازیوں پر الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ وہ جو اپنی نمازوں سے غفلت اختیار کرتے ہیں اور پھر بغیر تردد کے بغیر روک کے بغیر عطف ڈالے فرمایا الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ یعنی ان غفلت کرنے والے نمازیوں پر لعنت ہو جن میں ریا کا پہلو پایا جاتا ہے۔پھر ایک اور آیت میں فرمایا وَلَا يَأْتُونَ الصَّلوةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَرِهُونَ (التوبه (۵۴) اس پوری آیت میں بھی ایسے نمازیوں کا ذکر ہے جور یا کاری کی خاطر دل میں ایمان نہ رکھتے ہوئے بھی نمازیں ادا کرتے ہیں۔اور ان میں یہ دوصفات پائی جاتی ہیں کہ وہ نماز میں غفلت کی حالت میں ادا کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے گریز کرتے ہیں اور بہت بوجھ محسوس کرتے ہیں۔پس پہلی بات تو یہ ذہن نشین کرنی چاہئے کہ وہ مقتدی اور وہ سالک جو بے اختیاری کی حالت میں نماز کے مغز کو نہیں پاسکتا اس کی روح کو نہیں پہنچ سکتا جس کو معلوم نہیں ہے کہ اس راہ میں کیسے چلنا ہے، جو دیانت داری سے کوشش تو کرتا ہے لیکن ٹھوکریں کھاتا ہے، گرتا پڑتا ہے۔چاہتا ہے کہ محبوب کی منزل تک پہنچ جاؤں لیکن بے اختیاری اور مجبوری کی حالت میں راستے کی ٹھوکروں کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ایسے نمازی پر قرآن کریم نے کہیں بھی لعنت نہیں ڈالی اور ایسی نماز کے مردود ہونے کے متعلق کوئی اعلان نہیں فرمایا۔بلکہ يُقِيمُونَ الصَّلوة کی حالت ہی بتا رہی ہے کہ مومن کی نمازوں کو یہ خطرات لاحق ہوں گے اور وہ ہر وقت اپنی نمازوں کو کھڑا کرنے کی ، استقامت بخشنے کی