خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 962 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 962

خطبات طاہر جلد۴ 962 خطبه جمعه ۶ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء ہیں۔اور باب تفعیل میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ جس معنی کے لئے اصل لفظ ہے اس کے برعکس معنی پیدا کر دیا کرتا ہے۔چنانچہ مرض کا مطلب ہے وہ مریض ہو گیا۔وہ بیمار ہو گیا۔لیکن جب باب تفعیل میں یہ لفظ بولیں گے تو مرض کہیں گے جس کا مطلب ہے کہ اسے شفا دے دی۔اور یہ عرب استعمال ہے۔مَرَّضَہ کسی نے اس کو شفا دے دی۔اور مرض کا مطلب ہے بیمار ہو گیا۔اہل لغت کہتے ہیں که در اصل اصلی کا مطلب یہ ہے کہ جہنم کی آگ سے بچانے والی چیز۔صلی کا برعکس معنی۔صلی کا مطلب ہے آگ میں داخل ہو گیا جبکہ صلَّی کا مطلب ہے آگ کو اپنے سے دور کر دیا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کے اور معنی بیان فرمائے ہیں۔آپ یہ فرماتے ہیں کہ اس کے مضمون میں آگ ہی داخل ہے لیکن وہ آگ محبت الہی کی آگ ہے اور محبت الہی کی آگ سے غیر آگ کو دفع کرنا اس کا معنی ہے۔آگ کے مضمون میں جو سوزش اور حرقت ہے اس سے مراد اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس کے پیار کی آگ ہے اس لئے آگ کا مضمون تو ہے لیکن آگیں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔انسان محبت کی آگ میں بھی جلتا ہے۔عشق اور پیار سے بھی گرمی محسوس کرتا اور حسد سے بھی کرتا ہے۔ان دونوں آگوں کا نتیجہ بالکل مختلف ہے ، عشق اور محبت کی آگ دل کو گداز کر دیتی ہے اور حسد کی آگ اس کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے۔ایک عذاب ہے اور ایک لذت ہے۔ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ اہل لغت کے مضمون ہی کو نہیں جانتے بلکہ عارف باللہ بھی ہیں، ایک صاحب تجر بہ بزرگ ہیں۔اس لئے آپ نے جو معنی پیدا کئے ہیں وہ اہل لغت کے معنی سے کہیں زیادہ بالا اور ارفع اور عالی شان رکھنے والے ہیں۔آپ یہ مضمون بیان فرماتے ہیں کہ اگر نماز میں خدا کی محبت ایک گرمی پیدا نہ کرے تو نماز ہے ہی نہیں کیونکہ وہ اصل سے خالی ہوگی۔نماز کی اصل ہی گرمی ہے اور وہ گرمی چونکہ خدا کی محبت کی گرمی ہے اس لئے اس کے بغیر جو نماز ہے وہ خالی اور بے معنی ہے۔اس کا لفظ نماز کے ساتھ حقیقت میں کوئی تعلق نہیں۔فرماتے ہیں صلوٰۃ کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دعا صرف زبان سے نہیں بلکہ اس کے ساتھ سوزش اور جلن اور حرقت کا ہونا ضروری ہے۔خدا تعالیٰ دعا کو قبول نہیں کرتا جب تک انسان حالت دعا میں ایک موت تک نہیں پہنچ جاتا۔