خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 961
خطبات طاہر جلدم 961 خطبه جمعه ۶ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء ہے اس کی آواز کمزور ہو جاتی ہے۔یا خواہش کے تلے دب جاتی ہے۔تو فرمایا یہ نفس لوامہ کی لغزشیں پھر بھی ساتھ لگی رہتی ہیں۔پس گناہوں سے پاک کرنا خدا کا کام ہے اس کے سوائے کوئی طاقت نہیں جو زور کے ساتھ تمہیں پاک کر دے۔پس پاک جذبات کے پیدا کرنے کے واسطے خدا تعالیٰ نے نماز رکھی ہے۔نماز کیا ہے ایک دعا جو دردسوزش اور حرقت کے ساتھ خدا تعالیٰ سے طلب کی جاتی ہے تا کہ یہ بد خیالات اور برے ارادے دفع ہو جائیں اور پاک محبت اور پاک تعلق حاصل ہو جاوے“۔اس مضمون میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تین ایسی باتیں بیان فرمائی ہیں جن کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہئے۔اول نماز کو ایک ایسی دعا قرار دیا جو درد، سوزش اور حرقت یعنی بڑی شدت کے ساتھ گرمی اپنے اندر رکھتی ہے۔در حقیقت نماز کے معانی میں ایک سوزش اور جلن کا مضمون پایا جاتا ہے۔بعض اہل لغت کے نزدیک صلوۃ کا لفظ صلی سے نکلا ہے۔جس کا معنی ہے جلنا اور صلی کا مطلب ہے اس نے جلایا، یا وہ جلا، یاوہ ایسی چیز میں داخل ہو گیا جو جلانے والی ہو۔قرآن کریم میں جو تصلى نَارًا حَامِيَةً ( الغاشیہ: ۵) آتا ہے کا یہی معنی ہے۔صلی کا لفظ ایک ایسے اقدام کے لئے بولا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں انسان کو گرمی پہنچے، آگ کا سامنا کرنا پڑے۔يَصْلَى النَّارَ الْكُبُری (الاعلی : ۱۳) بھی فرمایا کہ وہ بڑی آگ میں داخل ہو رہا ہے، یا ہو گیا ہے، یا ہو جائے گا۔وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا ( النساء :(۱) وہ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کئے جائیں گے۔فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًا ( النساء: ۳۱) پھر ہم یقیناً اسے آگ میں داخل کر دیں گے۔یہ سارا مضمون جس میں لفظ صلی آیا ہے اس کا تعلق آگ سے اور گرمی سے ہے۔چنانچہ بعض اہل لغت نے یہ کہا ہے کہ نماز کی اصل یہی ہے یعنی لفظ صلوۃ کی اصل یہی صلی ہے۔اس کا نماز سے پھر کیا تعلق ہے۔اگر صلی کا مطلب جہنم میں داخل ہونا ہے تو نماز کا تو یہ مطلب نہیں یہ تو اس کے بالکل بر عکس معنی رکھتی ہے۔اس کے کیا معنی ہیں؟ بعض اہل لغت نے یہ معنی بیان فرمائے ہیں کہ در اصل صلوة يا صلى یصلی یہ جو استعمال ہے لفظ صلی سے نکلا ہوا ہے یہ باب تفعیل ہے جیسے مرض يمرض تمریضا کہتے ہیں اسی طرح صلى يصلى تصلیا یہ وہ باب تف تفعیل بتاتے