خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 959 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 959

خطبات طاہر جلدم 959 خطبہ جمعہ ۶/ دسمبر ۱۹۸۵ء طوق اور قسم قسم کے زنجیر انسان کی گردن میں پڑے ہوئے ہیں“۔اب آپ اس سے اندازہ کریں کہ نماز کو قائم کرنا درحقیقت کتنی محنت کا کام ہے اور ہونا بھی چاہئے۔دنیا کے ادنیٰ سے ادنیٰ مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے انسان کو محنت کرنا پڑتی ہے بغیر محنت اور کوشش کے وہ حاصل نہیں ہوتے اس لئے یہ تصور کر لینا کہ نماز میں کھڑے ہو گئے اور آپ نے پوری کوشش تمام کر دی اور جو حق تھا ادا کر دیا کیونکہ آپ نے وضو کیا اور نماز میں جاکے کھڑے ہو گئے اور نتیجہ نہیں نکلا اور پھر اس کی ذمہ داری کس پہ ڈالی جاتی ہے اللہ تعالیٰ پر نعوذ باللہ کہتے ہیں ہم تو چلے گئے تھے خدا نے آگے سے جواب ہی نہیں دیا۔ہم تو گئے تھے لیکن ہمارے دل میں کوئی نیکی پیدا نہیں ہوئی، کوئی لذت محسوس نہیں ہوئی ، کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ایک دوڑ کے مقابلے کے لئے دنیا میں لاکھوں لاکھ انسان دن رات مشقتیں کرتے ہیں کہ وہ عالمی چمپیئن بنیں اور سو گز دوڑ میں آگے جائیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے جو دیکھنے والے ہیں ان کو تو یہی نظر آتا ہے کہ وہ دوڑ پڑا ہے اور بڑا اچھا دوڑ رہا ہے لیکن جو دوڑ میں شامل ہوتے ہیں ان کو پتہ ہوتا ہے کہ کتنی لمبی محنت کی ضرورت ہے۔ان محنتوں کے بعد بسا اوقات انسان اپنے ضلع کا اول کھلاڑی بھی بن جائے تو یہ بھی ایک بڑی غنیمت ہے۔بعض ممالک کے کھلاڑی کئی سالوں کی محنت کے بعد بھی اس مقام پر نہیں پہنچتے کہ وہ اپنے ملک کی ٹیم میں شامل ہونے کے اہل قرار دیئے جائیں اور پھر وہ جو اہل قرار دیئے جاتے ہیں وہ عالمی چمپیئن شپ میں داخل ہونا تو درکنار ایسے مقابلے میں ہی ختم ہو جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں ان کو داخلے کی اجازت مل سکتی ہے۔تو دیکھنا اور بات ہے اور علم حاصل ہونا اور بات ہے کہ فلاں آدمی فرسٹ آ گیا ، اول آیا ، بڑا اچھا دوڑا تھا اور جد و جہد کر کے اس مقصد کو حاصل کرنا یہ بالکل الگ بات ہے۔تو نمازوں کو کیوں اتنا آسان سمجھا گیا ہے کہ اس میں کوئی محنت کی ضرورت نہیں جبکہ کائنات کا بلند ترین مقصد یعنی حصول باری تعالی ، لقاء باری تعالیٰ۔اللہ تعالیٰ مل جائے اور اس کا لقاء حاصل ہو جائے۔اس مقصد کی اہمیت لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وضو کیا، نماز میں کھڑے ہو گئے اور خدامل گیا اور بات ختم ہو گئی۔یہ ہو ہی نہیں سکتا یہ خدا تعالیٰ کے کارخانہ قدرت کے خلاف ہے۔اس نے جو نظام قدرت جاری کیا ہے اس کے بالکل بر خلاف بات ہے۔جتنا بڑا مقصد ہواتنی بڑی محنت کی ضرورت